محقق و مدلل جدید مسائل جلد 1 |
|
تھی ،لیکن سال پورا ہو ااس روز اس کی قیمت بازار کے اعتبار سے ایک لاکھ روپئے ہوں تو ایک لاکھ کی زکوۃ ادا کرنی ہوگی۔(۱)پگڑی کی رقم پر زکوۃ مسئلہ(۱۰۳): مکان یا دوکان کا کرایہ دار جو رقم مالکِ مکان کوبطورِپگڑی ادا کر تا ہے، اس کی زکوۃ مالکِ مکان یا دوکان پر لازم ہوگی، اس لیے کہ وہ اس رقم کا مالک ہوچکا ہے۔(۲) ------------------------------ الحجۃ علی ما قلنا: (۱) ما في ’’ البدائع ‘‘ : وسوائٌ کال مال التجارۃ عروضاً أو عقاراً أو شیئاً مما یکال أو یوزن لأن الوجوب في أموال التجارۃ تعلق بالمعنی وہو المالیۃ والقیمۃ وہذہ الأموال کلہا في ہذا جنس واحد ۔ (۲/۴۱۶) ما في ’’ رد المحتار والہندیۃ ‘‘ : وتعتبر القیمۃ یوم الوجوب، وقالا یوم الأداء، وفي السوائم یوم الأداء إجماعا وہو الأصح ، ویقوم في البلد الذي المال فیہ ولو في مفازۃ۔ (۲/۲۱۱، الفتاوی الہندیۃ :۱/۱۸۰) (آپ کے مسائل اور ان کا حل:۳/۳۷۱، ایضاح النوادر: ۲۱۷، احسن الفتاوی:۴/۳۱۵، فتاوی رحیمیہ:۶/۱۵۰) الحجۃ علی ما قلنا: (۲) ما في ’’ التنویر مع الدر والرد ‘‘ :(وسببہ ملک نصاب حولي تام فارغ عن دین لہ مطالب من جہۃ العباد ۔’’ تنویر‘‘۔ (۳/۱۷۴۔۱۷۶،کتاب الزکاۃ) ما في ’’ الفتاوی التاتارخانیۃ ‘‘ : الملک التام… أن یکون ملکہ ثابتاً من جمیع الوجوہ ۔ (۲/۳) (ایضاح النوادر:۱۸۶)