محقق و مدلل جدید مسائل جلد 1 |
|
کوئی چیزلیز( اجارہ) پر دے دی گئی تو اسے قرض سمجھا جائے گا، اور قرض کے سارے احکام اس پر جاری ہوں گے ، اس غیر صحیح لیز (اجارہ)پر جو بھی کرایہ لیا جائے گا، وہ قرض پر لیا جانے والا سود ہوگا ۔ (۱) ۵-…لیز(Lease)پر دی گئی جائیداد مؤجر (Leaser)کی اپنی ذاتی ہو ۔ (۲) ۶-…مستاجر(Lease holder)کی طرف سے اس چیز کے غلط استعمال ، غفلت و کوتاہی کی وجہ سے جو نقصان ہو تو وہ اس کا معاوضہ دینے کا ذمہ دار ہوگا ۔ (۳) ------------------------------ (۱) ما فی ’’ بدائع الصنائع‘‘: لایجوز استئجار الدراہم والدنانیر والمکیلات والموزونات لأنہ لا یمکن الانتفاع بہا إلا بعد استہلاک أعیانہا ۔ (۵/۵۲۰ ، کتاب الإجارۃ) ما فی ’’ الفقہ الإسلامی وأدلتہ ‘‘: والمعقود علیہ في الإجارۃ ہي المنفعۃ لا العین، لہذا کلہ فإن المقرر أن : ’’ کل ما ینتفع بہ مع بقاء عینہ تجوز إجارتہ وما لا فلا ‘‘ ۔ (۵/۳۸۰۵ ، دررالحکام شرح مجلۃ الأحکام : ۱/۴۵۱ ، المادۃ : ۴۲۰) وما في ’’ الفقہ الإسلامی وأدلتہ ‘‘ : والإجارۃ بیع المنفعۃ لا بیع العین، ولا تجوز إجارۃ الشاۃ للبنہا أوسمنہا أو صوفہا أو ولدہا ۔ (۵/۳۸۰۴) ما في ’’ إعلاء السنن‘‘ : عن فضالۃ بن عبید رضي اللہ عنہ صاحب النبي صلی اللہ علیہ وسلم أنہ قال : ’’ کل قرضٍ جر منفعۃ فہو وجہ من وجوہ الربا ‘‘ ۔ (۱۴/۵۶۷ ، باب کل قرض جر منفعۃ فہو ربا) (۲) ما فی ’’ الفقہ الإسلامی وأدلتہ ‘‘: ویشترط فیہا أن یکون في مقدور المؤجر تسلیمہا فلا یصح إجارۃ المغصوب لغیرہ من في یدہ۔ (۵/۳۸۳۴) (۳) ما فی ’’درر الحکام شرح مجلۃ الأحکام ‘‘ :من استحق منفعۃ معینۃ بعقد إجارۃ فلہ استیفاء مثلہا أو ما دونہا ولیس لہ أن یتجاوز إلی ما فوقہا، فعلیہ إذا خالف المستأجر ماذونیتہ بالتجاوز إلی ما فوق المشروط وجب علیہ الضمان لکونہ تعدی ۔ (۱/۷۰۰، المادۃ :۶۰۵)