محقق و مدلل جدید مسائل جلد 1 |
|
۷-…لیزنگ(Leasing)میں،مالک طے شدہ چیز کو ،طے شدہ مدت کیلئے ، مستاجر(Lease Holder)کے قبضہ میں انتفاع کیلئے کسی طے شدہ عوض کے ساتھ دیدے ۔ (۱) ۸-…لیز پر دی جانے والی چیز کا اچھی طرح متعین ہونا ضروری ہے ۔ (۲) ۹-…لیز(Lease)پر دی جانے والی چیز مدت کے دوران مؤجر (Leaser) کے ضمان (Risk)میں رہے گی، جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی سبب سے نقصان ہوجائے، جو مستاجر (Lease Holder)کے اختیار سے باہر ہو، تو یہ اختیار مؤجر (Laser) یعنی مالک برداشت کرے گا ۔ (۳) ------------------------------ (۱) ما في ’’ درر الحکام شرح مجلۃ الأحکام ‘‘ : تسلیم المأجور ہو عبارۃ عن إجازۃ الآجر ورخصتہ للمستأجر بأن ینتفع بہ بلا مانع ۔ (المادۃ : ۵۸۲) وأیضاً : تسلیم المأجور ہو عبارۃ عن إجازۃ الآجر ورخصتہ للمستأجر بقبض المأجور وتسلیمہ والانتفاع بہ بلا مانع ولا حائل ۔ (۱/۶۶۵) (۲) ما في ’’ الفقہ الإسلامي وأدلتہ ‘‘ : یلزم تعیین المأجور بناء علیہ لا یصح إیجار أحد الحانوتین من دون تعیین أو تمییز۔ (المادۃ: ۴۴۹) وأیضاً : یلزم في صحۃ الإجارۃ (أي عدم فسادہا) تعیین المأجور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لأن الجہل بالمأجور یستلزم الجہل بالمنفعۃ وہو مما یؤدي إلی التنازع، فإن تعیین المأجور بعد العقد وحصل رضاء الطرفین فالإجارۃ صحیحۃ۔ (۱/۵۰۲) (۳) ما في ’’ الفقہ الإسلامي وأدلتہ ‘‘ : ضمان العین المستأجرۃ: تعتبر ید المستأجر علی العین المستأجرۃ في إجارۃ المنافع ید أمانۃ فلا یضمن ما یتلف بیدہ إلا بالتعدي أو التقصیر في الحفظ ویتقید في الانتفاع بمقتضی العقد وما شرط فیہ وما جری بہ العرف ۔ (۵/۳۸۴۷)