محقق و مدلل جدید مسائل جلد 1 |
|
جبکہ بعض فقہاء کے نزدیک لڑکے نہ ہونے کی صورت میں لڑکی اور اگروہ نہ ہو تو حقیقی باپ، بھائی کو، اور وہ بھی نہ ہو تو حقیقی ہمشیرہ کو اور وہ بھی نہ ہو تو ماں کو حق دیا جائے گا ۔ نوٹ:-… پٹہ دوامی کی صورت چوں کہ اصل ضابطۂ اجارہ اور فقہاء کی ذکر کردہ تصریحات کے مطابق نہیں ہے، اس لیے فقہاء نے اجارہ کی اس صورت کو ناجائز کہا ہے، البتہ علامہ شامی رحمہ اللہ نے مختلف فقہاء کی عبارتیں اس صورت کے عدمِ جواز پر نقل کی ہیں، پھر قنیہ سے اس کا جواز ثابت کیا ہے، اور اس کے جواز کی تائید میںامام خصاف رحمہ اللہ کی عبارت پیش کی ہے۔ چونکہ فقہاء کی عبارات اس مسئلہ میں مختلف ہیں اور ان کے درمیان اضطراب پایا جاتا ہے، اس لئے ان عبارتوں کے درمیان اس طرح تطبیق دی جائے گی کہ جن عبارتوں سے پٹہ دوامی کا عدمِ جواز ثابت ہوتا ہے، ان کا مطلب یہ سمجھا جائے گاکہ چونکہ پٹہ دوامی کی عمومی نوعیت عام شرعی ضابطوں کے خلاف ہے اس لئے یہ صورت ناجائز ہوگی،اور جن عبارتوں سے پٹہ دوامی کا جواز ثابت ہوتا ہے، ان کا مطلب یہ سمجھا جائے گا کہ ان سے مراد وہ خاص صورتیں ہیں جن کو اوپر بیان کیا گیا، اس لئے اگر ان خاص خاص صورتوں کے مطابق پٹہ دوامی کو اختیار کیا جائے تو جائز طریقۂ کا ر کی وجہ سے وہ مستثنیٰ ہوگی، اور فقہاء کرام کے فتوی کے مطابق جائز ہوگی ۔ (۱) ------------------------------ الحجۃ علی ما قلنا: (۱) ما في ’’ رد المحتار‘‘ : قال ابن عابدین رحمہ اللہ : وفي وفتاوی العلامۃ المحقق عبد الرحمن آفندي العمادي مفتي دمشق جواباً لسؤال عن الخلو المتعارف بما حاصلہ : أن حکم العام قد یثبت بالعرف الخاص عند بعض العلماء کالنسفي وغیرہ ، ومنہ الأحکار التي جرت بہا العادۃ في ہذہ الدیار، وذلک بأن تمسح الأرض وتعرف بکسرہا ویفرض =