محقق و مدلل جدید مسائل جلد 1 |
|
یہاں اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ جائداد کی اجرتِ مثل میں اس حالت کا اعتبار کیا جائے گا جو کرایہ دار کے اس زمین میں عمل اور تصرف کرنے سے پہلے تھی، مثال کے طور پر ایک کرایہ دار نے زمین دس ہزار (10,000)روپئے ماہانہ کرایہ پر لی، بعد میں ایسی ہی حالت وصفت والی زمین کا کرایہ بارہ ہزار(12000) روپیہ ہوگیا ،تو اب کرایہ دار کے لیے اس زمین کا کرایہ بارہ ہزار(12000) روپئے ہی ادا کرنا ضروری ہوگا ، کاشتکار یا کرایہ دار کے عمل سے اس زمین کے کرایہ میں اگر کوئی اضافہ ہو ا ہے تو اس کا اجرتِ مثل میں اعتبار نہیں کیا جائے گا، بلکہ اس عمل اور تصرف سے پہلے کی حالت کا اعتبار کرتے ہوئے اجرتِ مثل کا تقرر ہوگا ۔ (ج)…کاشتکار یا کرایہ دار اس زمین کو تین سال تک معطل نہ چھوڑے ۔ اگر شرائطِ مذکورہ میں سے کسی شرط کی خلاف ورزی کی گئی تو کرایہ دار یا کاشتکار کا اس زمین پر سے دائمی حقِ استعمال ختم ہوجائے گا، اور اگر اس نے ان شرائط کی پابندی کی ، تو اس کا اس جائداد پر دائمی حقِ استعمال ثابت ہوجائے گا، اور اس کے انتقال کے بعد یہی حق اس کے ورثاء کی طرف منتقل ہوجائے گا، لیکن یہاں اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ پٹہ دوامی میں جائداد پر جو دائمی ’’حق‘‘ کرایہ دار کو ملتا ہے اور اس کے انتقال کے بعد اس کے ورثاء کی طرف منتقل ہوجاتا ہے وہ ملکیت کے ساتھ نہیں ہوتا، بلکہ ملکیت تو درحقیقت اصل مالک کی ہی رہتی ہے ، اور اس زمین یا جائداد کو استعمال کرنے کا حق پٹہ دوامی میں کرایہ دار کو ملتا ہے، اس کے انتقال کے بعد یہی حق ورثاء کی طرف منتقل ہوتا ہے، چونکہ پٹہ دوامی میں ملکیت نہیں ہوتی بلکہ ’’حق‘‘ ہوتا ہے، اسی لیے کرایہ دار کے انتقال کے بعد فقہاء کے نزدیک یہ حق ورثاء میں سے صرف لڑکوں کو ملے گا، لڑکیوں اور دوسرے ورثاء کو یہ حق منتقل نہیں ہوگا۔