محقق و مدلل جدید مسائل جلد 1 |
|
حدیث میں ہے کہ جو شخص نماز کا اہتمام کرتا ہے اللہ تعالی اس کا پانچ طرح سے اکرام فرماتے ہیں، (ان میں سے) ایک یہ ہے کہ اس کے رزق کی تنگی دورکردی جاتی ہے۔ (الکبائر للذہبي:ص۲۴) حضرت شقیق بلخی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : روزی کی برکت چاشت میں ملی۔(۲) دعاء :… ارشادِ باری تعالی ہے : {أدعوني أستجب لکم}۔ …مجھ کو پکارو میں تمہاری درخواست قبول کروں گا۔(المؤمن:۶۰) حدیث میں ہے کہ دعا مومن کا ہتھیار ہے۔ (مستدرک حاکم:۱/۶۷۴، حدیث نمبر:۱۸۶۳) ایک دوسری حدیث میں ہے کہ سحری کے وقت اللہ تعالی آواز لگاتے ہیں : ’’ ألا مسترزق فأرزقہ ‘‘ …کیا کوئی رزق مانگنے والا ہے تاکہ اس کو رزق عطا کروں۔ (ابن ماجہ: أبواب إقامۃ الصلاۃ، ما جاء فی لیلۃ ، حدیث نمبر:۱۳۸۸)(۳) تقوی :…ارشادِ خدواندی ہے : {ومن یتق اللہ یجعل لہ مخرجاً o ویرزقہ من حیث لا یحتسب}…اور جو کوئی اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لیے کشائش پیدا کردیتا ہے، اور اسے ایسی جگہ سے رزق پہونچاتا ہے جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوتا۔(طلاق:۲،۳) غیب سے روزی: غیب سے روزی کے دو طریقے ہیں : متعارف ، غیر متعارفمتعارف :… مثلاً کرنسی (ڈالر یا روپیہ) کی شکل میں عطا کردے ، یا کسی آدمی کے دل میں یہ بات ڈالدے کہ فلاں متقی کی مدد کر۔