محقق و مدلل جدید مسائل جلد 1 |
|
بعض تو وہ ہوتے ہیں کہ رمضان ہی میں ان کے نصاب پر سال پورا ہوتاہے، وہ وقت پر ہی ادا کررہے ہیں، اور بعض لوگ وہ ہوتے ہیں کہ ان کے نصاب پر سال پہلے ہی پورا ہوچکا ہوتاہے ،مگر زکوۃ کی ادائیگی رمضان میں کرتے ہیں ،ان کے لیے بہتر یہ تھا کہ جس وقت سال پورا ہوا اسی وقت ادا کرتے، کیونکہ ادائے زکوۃ میں تاخیر کرنا مکروہِ تحریمی ہے،(۱) اور بعض وہ ہوتے ہیںجو رمضان المبارک کی فضیلت وبرکت(ثواب میں ستر ’’۷۰‘‘گنا اضافہ) سے فائدہ اٹھانے کے لیے پیشگی زکوۃ دیتے ہیں جوکہ جائز ہے ،مگرتین شرطوں کے ساتھ: ۱؍… بوقتِ تعجیل ( پیشگی زکوۃ ادا کرتے وقت) سال شروع ہوچکاہو۔ ۲؍… آخر سال میں وہ نصاب کامل ہو جس کی پیشگی زکوۃ دی گئی۔ ۳؍ …درمیان میں اصل نصاب فوت نہ ہو ۔ (۲) ------------------------------ (۱) ما في ’’ الفتاوی الہندیۃ ‘‘ : وتجب علی الفور عند تمام الحول، حتی یأثم بتأخیرہ من غیر عذر، وفي روایۃ الرازي علی التراخي حتی یأثم عند الموت، والأول أصح کذا في التہذیب ۔ (۱/۱۷۰ ، کتاب الزکاۃ ، الباب الأول وتفسیرہا وصفتہا وشرائطہا) (۲) ما في ’’ الفتاوی التاتارخانیۃ ‘‘ : وشرح الطحطاوي : وإنما یجوز التعجیل بشرائط ثلاثۃ : أحدہا: أن یکون الحول منعقداً وقت التعجیل ، والثاني : أن یکون النصاب کاملاً في التي عجل عنہ في آخر الحول ، والثالث : أن لا یفوت أصلہ فیما بین ذلک ۔ (۲/۲۸ ، کتاب الزکاۃ) (فتاوی حقانیہ:۳/۴۸۶)