محقق و مدلل جدید مسائل جلد 1 |
|
محمد بن ابی بکر الدمشقی معروف بابن القیم نے جمال کی دو قسمیں فرمائی: (۱)جمالِ ظاہر ی، (۲) جمالِ باطنی۔
جمالِ باطنی کا اطلاق علم ، عقل ، عفت اور شجاعت پر ہوتا ہے، اور جمالِ ظاہری سے وہ خوبصورتی مراد ہے جس کے ذریعے اللہ رب العزت نے بعض صورتوں کو بعض سے مختص فرمایا ہے، اور یہی زیادتی ٔ خلق ہے، ارشادہے : {یزید في الخلق ما یشاء}۔ترجمہ:…وہ پیدا ئش میں جو چاہے زیادتی کرتا ہے۔ (سورۂ فاطر :۱)
معلوم ہوا کہ جمال فطری وخلقی ہے جو اللہ کی عظیم نعمتوں میں سے ایک ہے، اور زینت کسبی اور اصلِ خلقت پر اضافہ ہے ، شریعتِ اسلامی نے زینت کو مطلقاً ناجائز وحرام نہیں قراردیا ، بلکہ اس کوحدِ اعتدال میں رکھنے کے لیے حدود وقیود متعین کی ہے۔
اگر مسلمان مرد وعورت ان حدود کے اندر رہتے ہوئے اور ان قیود کا لحاظ رکھتے ہوئے زیب وزینت اختیار کرتے ہیں تو یہ نہ صرف جائز بلکہ مطلوب ہے،اور اگر ان حدود سے تجاوز کر جاتے ہیں تو نہ صرف ناجائز بلکہ بسا اوقات حرام بھی ہوتا ہے۔
انسان کا زیب وزینت کو پسند کرنا امرِ طبعی بلکہ فطری ہے، ہر انسان اس کی تمنا وآرزو کرتا ہے، کہ وہ خوبصورت ترین دکھائی دے، اسلام نے اس جذبہ وخواہش کو دبایا نہیں بلکہ اس کی اجازت دی ، کیوں کہ اسلام دینِ فطرت ہے اور فطری چیزوں کومنع نہیںکرتا ، بلکہ اس کی اجازت دیتا ہے، جیساکہ قرآن کریم کی یہ آیتیں شاہد ہیں : {یٰبني آدم خذوا زینتکم عند کل مسجد }۔
ترجمہ:…اے اولادِ آدم ہر نماز کے وقت اپنا لباس پہن لیا کرو ۔[اعراف:۳۱]
{قل من حرم زینۃ اللہ التي أخرج لعبادہ والطیبات من الرزق}۔