الرحمۃ الواسعۃ فی حل البلاغۃ الواضحۃ |
لرحمة ا |
|
اس میں شاعر اس مصرعہ کو کہاوت کے طور پر پیش کرکے آپ کے سامنے منظر کشی کررہا ہے کہ جو اس کے ممدوح کا قصد کرے گا تو وہ اس سے کمتر لوگوں سے بے نیاز ہوجائے گا، جیسے سمندر کا قصد کرنے والا نہروں کی پروا نہیں کرتا ہے، چنانچہ وہ آپ کو استعارہ تمثیلیہ عطا کررہا ہے جس میں دلکشی اور حسن وجمال ہے، اور اس سے بڑھ کر اس میں شاعر کے دعوی کی سچائی پر دلیل بھی ساتھ ساتھ ہے۔ یا شاعر کہتا ہے ؎ مَازِلْتَ تُتْبِعُ مَاتُوَلِّي یَدًا بِیَدٍ حَتّٰی ظَنَنْتُ حَیَاتِیْ مِنْ أَیَادِیْکَا ترجمہ:- آپ برابر ہاتھوں ہاتھ مسلسل احسانات کرتے رہے یہاں تک کہ میں اپنی زندگی کو بھی آپ کے احسانات وعطایا کا حصہ گمان کرنے لگا۔ اس میں شاعر تشبیہ اور استعارہ سے مجاز مرسل کی طرف عدول کررہا ہے، اور کلمۂ ’’یَدٌ‘‘بول كر نعمت مراد لے رہا ہے، کیونکہ ہاتھ نعمت کا آلہ اور سبب ہے۔ یا شاعر کہتا ہے ؎ أَعَادَ یَوْمُكَ أَیَّامِی لِنَضْرَتِھهَا وَاقْتَصَّ جُوْدُكَ مِنْ فَقْرِي وَإِعْسَارِي ترجمہ:- تیرے نصیبہ والے دن نے میرے دنوں کی خوشحالی کو لوٹادیا، اور میری محتاجگی اور تنگ دستی سے تیری سخاوت نے قصاص لیا۔ شاعر مجاز عقلی کے طور پر فعل کی ’’یوم‘‘ اور’’جود‘‘ کی طرف نسبت کررہا ہے۔ یا شاعر کہتا ہے ؎ فَمَا جَازَهُ جُوْدٌ وَلَاحَلَّ دُوْنَہهُ وَلٰکِنْ یَسِیْرُ الْجُوْدُ حَیْثُ یَسِیْرُ ترجمہ:- سخاوت ممدوح سے کبھی نہیں ہٹی ہے اور نہ ممدوح کے علاوہ کے پاس گئی ہے بلکہ سخاوت وہاں جاتی ہے جہاں ممدوح جاتا ہے۔ یہاں شاعر ممدوح کی طرف سخاوت کی نسبت سے کنایہ کررہا ہے، اور یہ دعوی کررہا ہے کہ سخاوت ہمیشہ ممدوح کے ساتھ چلتی ہے، اس لئے کہ اس نے ممدوح پر سخاوت کا حکم لگانے کے بجائے یہ دعوی کیا کہ سخاوت اس