الرحمۃ الواسعۃ فی حل البلاغۃ الواضحۃ |
لرحمة ا |
|
البحث (مثالوں کی وضاحت) پہلی دو مثالوں میں سے ہر ایک میں فعل کی نسبت فاعل کے علاوہ کی طرف کی گئی ہے، اس لئے کہ ’’عکاز‘‘ (لاٹھی) چلتی نہیں ہے، اور نہ بادشاہ نہر کھودتا ہے، بلکہ لاٹھی والا چلتا ہے، اور بادشاہ کے کارندے نہر کھودتے ہیں، لیکن لاٹھی چلنے میں سبب ہے، اور بادشاہ نہر کھودنے کا سبب ہے تو فعل کی نسبت دونوں جگہ سبب کی طرف کردی گئی۔ بعد والی دو مثالوں میں ایک میں ’’صوم‘‘ کی نسبت ’’نہهار‘‘ کی طرف اور ’’قیام‘‘ کی نسبت ’’لیل‘‘کی طرف کی گئی ہے، اور ’’ازدحام‘‘ کی نسبت ’’شوارع‘‘ کی طرف کی گئی ہے، حالانکہ دن روزہ نہیں رکھتا ہے، رات قیام نہیں کرتی ہے، اور سڑکیں بھیڑ نہیں کرتی ہیں، بلکہ دن میں اور رات میں رہنے والا صیام وقیام کرتا ہے، اور سڑکوں پر لوگ بھیڑ کرتے ہیں، پس ان دونوں مثالوں میں فعل یا شبہ فعل کی نسبت غیر حقیقی فاعل کی طرف ہے، اور جس چیز نے اس اسناد کو جائز قرار دیا ہے وہ یہ ہے کہ مسند الیہ دونوں مثالوں میں فعل کا زمانہ ہے یا فعل کا مکان ہے۔ پانچویں مثال میں جَدَّ اور کَدَّ دونوں میں فعل کی اسناد ان کے مصدر کی طرف کی گئی ہے، اور ان کے حقیقی فاعل کی طرف اسناد نہیں کی گئی، ــــــــــــــ اور چھٹی مثال میں حطیئہ شاعر اس شخص سے کہہ رہا ہے جس کی وہ ہجو کررہا ہے، وَاقْعُدْ فَإِنَّكَ الطَّاعِمُ الْکَاسِی ــــــــــــــ تو کیا تمہارا خیال ہے کہ حطیئہ اس کو یہ کہنے کے بعد کہ ’’ تم مکارم وفضائل کی طلب میں سفر نہ کرو‘‘ اب اس سے وہ یہ کہہ رہا ہے کہ تم دوسروں کو کھلاتے اور پہناتے ہو، نہیں! بلکہ اس کی مراد یہ ہے کہ تم دوسروں پر بوجھ بن کر بیٹھے رہو، تم کھلائے جاؤگے پہنائے جاؤگے، تو اس میں مبنی للفاعل وصف کی اسناد مفعول کی ضمیر کی طرف کردی گئی۔ اور آخری دو مثالوں میں’’مستور‘‘ساتر‘‘کی جگہ، اور ’’مأتیا‘‘ اٰتٍ‘‘ کی جگہ ہے تو اسم مفعول کو اسم فاعل کی جگہ استعمال کیا گیا، اگر آپ چاہیں تو اس طرح بھی کہہ سکتے ہیں کہ مبنی للمفعول وصف کی فاعل کی طرف اسناد کردی گئی۔ ان مذکورہ مثالوں میں آپ دیکھ رہے ہیں کہ افعال یا شبہ افعال کی اسناد حقیقی فاعل کی طرف نہیں کی گئی ہے بلکہ فعل کے سبب یا فعل کے زمانے یا فعل کے مکان، یا اس کے مصدر کی طرف کی گئی ہے، یا کچھ ایسے صفات ہیں جنکی اسناد مفعول کی طرف ہونی چاہئے ان کی نسبت فاعل کی طرف کردی گئی، اور دیگر بعض ایسے صفات ہیں جنکا