الرحمۃ الواسعۃ فی حل البلاغۃ الواضحۃ |
لرحمة ا |
|
سخاوت میں زیادہ خرچ کرنے کی وجہ سے مرگیا ہو۔ (۱۲) کسی دوسرے شاعر کا شعر ہے ؎ إِذَا لَمْ تَخْشَ عَاقِبَةَ اللَّیَالِي وَلَمْ تَسْتَحْيِ فَاصْنَعْ مَاتَشَاءُ ترجمہ:- جب تجھےراتوں کے انجام کا ڈر نہ ہو، اور تیرے اندر شرم وحیاءنه ہے تو تو جو چاہے کرتا رہ۔ (۱۳) اللہ تعالی کا ارشاد ہے،وَکُلُوْا وَاشْرَبُوْا حَتَّی یَتَبَیَّنَ لَکُمُ الْخَیْطُ الأَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ (بقرہ ۱۸۷) -اور کھاؤ پیو، یہاں تک کہ تمہارے لئے صبح کا سفید دھاگا سیاہ دھاگے سے الگ ہوجائے۔البحث (مثالوں کی وضاحت) اگر آپ پہلے حصے کی مثالوں پر غور کریں گے تو ان میں سے سب ایسے صیغے پر مشتمل ہیں جس سے الزام اور مکلف بنانے کے طریقہ پر ایسی چیز کے حصول کو طلب کیا جارہا ہے جو طلب کے وقت حاصل نہیں ہے، -- اور جب غور سے دیکھیںگے تو ان میں فعل کا طالب، جس سے فعل طلب کیا جارہا ہے اس سے بلند رتبہ اور بڑا ہے، اور یہی حقیقی امر ہے، اور جب آپ امر کے صیغوں کو غور سے دیکھیں گے تو وہ چار طرح کے ہیں، -- فعل امر جیسے پہلی مثال میں -- وہ فعل مضارع جو لام امر سے ملا ہوا ہو جیسے دوسری مثال میں -- اور امر کا اسم فعل جیسے تیسری مثال میں -- وہ مصدر جو فعل امر کے قائم مقام ہو جیسے چوتھی مثال میں۔ اور جب مثالوں کا دوسرا حصہ دیکھیں گے تو سب جگہ امر اپنے حقیقی معنی میں استعمال نہیں ہوا ہے، اور امر کا حقیقی معنی هے وحوب اور الزام کے طریقہ پر بڑے کا ادنی آدمی سے فعل کو طلب کرنا -- اس جگہ امر دوسرے معانی میں استعمال ہوا ہے جس کو سامع سیاق کلام اور قرائن احوال سے سمجھ سکتا ہے۔ چنانچہ پانچویں مثال میں ابوطیب متنبی کا مقصد تکلیف والزام نہیں ہے، بلکہ وہ نصیحت کررہا ہے ان لوگوں کو جو سیف الدولہ سے مقابلہ کرتے ہیں اور وہ شرافت وبلندی کے حصول کے لئے ایک اچھے راستہ کی رہنمائی کررہا ہے تو امر یہاں نصیحت وارشاد کے لئے ہے۔ اور چھٹی مثال میں امر سے اس کا اصلی معنی مراد نہیں ہے، اس لئے کہ متنبی اپنے بادشاہ کو خطاب کررہا ہے، اور بادشاہ کو اس کی رعیت میں سے کوئی حکم نہیں کرسکتا ہے، بلکہ اس سے دعا مراد ہے، اور ایسے ہی امر کا ہر وہ صیغہ جس