الرحمۃ الواسعۃ فی حل البلاغۃ الواضحۃ |
لرحمة ا |
|
(۴) مقتضائے ظاہر یہاں تاکید لاناتھا، کیونکہ مخاطب علوم کے فائدہ کا منکر ہے، لیکن جب اس کے سامنے ایسے دلائل وشواہد ہیں کہ اگر وہ ان میں غور فکر کرے تو انکار چھوڑ دے، تو اس کو غیر منکر کی طرح گردانا گیا، اور مقتضائے ظاہر کے خلاف خبر اس کے سامنے تاکید سے خالی پیش کی گئی۔ (۵) پانچویں مثال میں کلام بالکل ایسا ہی ہے جیسا پہلی مثال میں ہے۔التمرین - ۲ (۱) ایسی دو مثالیں لائیں جن میں خبر کی تاکید لائی گئی ہو استحسانا، اور مقتضائے ظاہر کے خلاف ہو، اور دونوں مثالوں میں مقتضائے ظاہر کے خلاف کا سبب بھی بیان کریں۔ (الف) لَاتَظْلِمْ، إِنَّ الظُّلْمَ وَخِیْمُ الْعَاقِبةِۃَ ــــــــــــــ ظلم نہ کر بیشک ظلم انجام کار بہت برا ہے۔ (ب) اُتْرُكِ الْمِرَاءَ فَإِنَّہهُ یَجْلِبُ الشَّرَّ ــــــــــــــ جھگڑا چھوڑدے اس لئےكہ یہ برائی کھینچ لاتا ہے۔ یہاں مخاطب دونوں مثالوں میں نہ خبر کا منکر ہے نہ متردد ہے، تو مقتضائے ظاہر کے اعتبار سے خبر تاکید سے خالی ہونی چاہئے تھی، لیکن دونوں مثالوں میں پہلا ایک جملہ جو حکم کو بتارہا ہے، تو مخاطب اس کا منتظر ہوگیا (پہلا جملہ ہے ظلم نہ کر، جھگڑا چھوڑدے، تو مخاطب منتظر ہوگیا کہ کیوں، اس سے کیا ہوگا، کچھ ہوگا بھی کہ نہیں تردد پیدا ہوگیا) تو مخاطب کو سائل متردد کے درجہ میں اتاردیا ، اور مقتضائے ظاہر کے خلاف خبر کو استحساناً تاکید کے ساتھ پیش کیا گیا۔ (۲) دو مثالیں ایسی لائیں جن میں خبر کی وجوبا تاکید لائی گئی ہو، اور خبر مقتضائے ظاہر کے خلاف ہو، اور دونوں مثالوں میں تاکید کی وجہ بھی واضح کریں۔ (الف) إِنَّ الصَّلَاۃةَ لَوَاجِبَةٌ ــــــــــــــ بیشک نماز واجب ہے۔ (یہ بات تارکِ صلوۃ سے آپ کہیں) (ب) تَاللہِه إِنَّ الْإِسْرَافَ مُضِرٌّ ــــــــــــــ بخدا فضول خرچی نقصان دہ ہے۔ (فضول خرچی کرنے والے سے یہ بات کہیں) مخاطب دونوں حالتوں میں حکم کا منکر نہیں ہے، لیکن اس پر دونوں حالتوں میں انکار کی علامتیں ظاہر ہیں، پس نماز کا چھوڑ نا نماز کے وجوب کے انکار کی علامت ہے، اور فضول خرچی کرنا فضول خرچی کے مضر ہونے کے انکار کی علامت ہے، اسی لئے اس کو منکر کے درجہ میں اتار کر خبر وجوباً تاکید کے ساتھ اس کے سامنے پیش کی گئی۔