الرحمۃ الواسعۃ فی حل البلاغۃ الواضحۃ |
لرحمة ا |
|
القاعدہ (قاعدہ) (۶۶) ایجاز کہتے ہیں کم الفاظ کے تحت بہت سارے معانی کو جمع کردینا وضاحت وصراحت کے ساتھ، اور اسکی دو قسمیں ہیں۔ (الف) پہلی قسم ایجاز قصر، وہ یہ ہے کہ چھوٹی عبارتیں بہت سے معانی کو متضمن ہو بغیر کسی کلمہ کو حذف کئے۔ (ب) دوسری قسم ایجاز حذف، وہ یہ ہے کہ ایک کلمہ یا جملہ یا زیادہ کو حذف کردیا جائے محذوف کے قرینہ کے ساتھ۔النموذج (نمونے کی مثالیں) ایجاز کی قسم بیان کرنے کے لئے (۱) اللہ تعالی کا ارشاد ہےـــ ـــــــــــ أُولٰئِكَ لَهُھمُ الْأَمْنُ (انعام ۸۲) یہی لوگ ہیں جنکے لئے امن ہے۔ (۲) اللہ تعالی کا ارشاد ہے ـــــــــــ قَالُواْ تَالله تَفْتَأُ تَذْكُرُ يُوسُفَ (یوسف ۸۵) بخدا آپ برابر یوسف کو یاد کرتے رہیں گے۔ (۳) اللہ تعالی کا ارشاد ہے ـــــــــــ أَخْرَجَ مِنْهَا مَاءهَا وَمَرْعَاهَا (نازعات ۳۱) اس نے زمین سے پانی اور چارہ نکالا۔ (۴) اللہ تعالی کا ارشاد ہے ـــــــــــ فَأَمَّا الَّذِيْنَ اسْوَدَّتْ وُجُوهُهُمْ أَكْفَرْتُمْ بَعْدَ إِيْمَانِكُمْ (آل عمران ۱۰۶) بہرحال وہ لوگ جنکے چہرے سیاہ ہوں گے (تو ان سے کہا جائے گاکہ) تم نے ایمان لانے کے بعد کفر کیا۔ (۵) اللہ تعالی کا ارشاد ہے ـــــــــــ وَلَوْ أَنَّ قُرْآناً سُيِّرَتْ بِهِ الْجِبَالُ أَوْ قُطِّعَتْ بِهِ الْأَرْضُ أَوْ كُلِّمَ بِهِ الْمَوْتَى بَل لِّلّهِ الأَمْرُ جَمِيعاً (رعد ۳۱) اور اگر قرآن کے ذریعہ پہاڑوں کو چلایا جائے، یا اسکے ذریعہ زمین کے ٹکڑے کردئے جائیں یا اسکے ذریعہ مردوں کو گویائی دی جاتی بلکہ تمام فیصلے اللہ ہی کے اختیار میں ہیں۔ (۶) اور متنبی کا شعر ہے ؎ أَتَی الزَّمَانَ بَنُوْهُ فِی شَبِیْبَتِہهِ فَسَرَّهُھمْ وَأَتَیْنَاهُ عَلَی الْھهَرَمِ ترجمہ:- زمانے کے بیٹے (یعنی پچھلی امتیں) زمانہ کے پاس اسکی جوانی میں آئے تو اس نے ان کو خوش