الرحمۃ الواسعۃ فی حل البلاغۃ الواضحۃ |
لرحمة ا |
|
ممدوح جعفر کے دونوں ہاتھوں کی سخاوت کی مشابہت کرتے ہوئے اس کے سامنے نہ آ ،اسلئے کہ تو اس کا مقابل وہمسر نہیں ہے۔ یہاں شاعر بالکل کھل کر بغیر ڈرے آپ کے سامنے اپنے ممدوح کی سخاوت کو بادل کی سخاوت پر ترجیح دے رہا ہے اور اتنے پر اکتفا نہیں کررہا ہے بلکہ آپ دیکھ رہے ہیں کہ وہ بادل کو ممدوح کی مشابہت اختیار کرنے پر دھمکی دیکر منع کررہا ہے، کیونکہ بادل ممدوح کا ہمسر ومدمقابل نہیں ہے۔ یا شاعر کہتا ہے ؎ وَأَقْبَلَ یَمْشِي فِی الْبِسَاطِ فَمَا دَرَی إِلَی الْبَحْرِ یَسْعٰی أَمْ إِلَی الْبَدْرِ یَرْتَقِيْ ترجمہ:- وہ فرش پر چلتے ہوئے آرہا تھا تو اسے معلوم نہ ہوسکا کہ وہ سمندر کے پاس جارہا ہے یا چودھویں کے چاند کی طرف چڑھ رہا ہے۔ شاعر سیف الدولہ کے پاس روم کے قاصد کے آنے کی حالت بیان کررہا ہے، تو وہ ممدوح کی سخاوت کو استعارہ تصریحیہ میں بیان کررہا ہے، اور آپ جانتے ہیں کہ استعارہ تشبیہ کو جان بوجھ کر بھولنے پر مبنی ہوا کرتاہے، اور استعارہ میں مبالغہ بہت زیادہ ہوتا ہے، اور دلوں پر اس کا اثر بھی بہت زبردست ہوتا ہے۔ یا شاعر کہتا ہے ؎ دُعَوْتُ نَدَاهُ دَعْوَۃةً فَأَجَابَنِي وَعَلَّمَنِی إِحْسَانُہهُ کَیْفَ آٓمُلُہهُ ترجمہ:- میں نے اس کی سخاوت کو پکارا تو اس نے مجھے جواب دیا، اور اس کے احسان نے مجھے سکھادیا کہ میں اس سے کیسے امید رکھوں۔ اس میں شاعر ممدوح کی سخاوت اور اس کے احسان کو انسان سے تشبیہ دے رہا ہے، پھر مشبہ بہ کو حذف کرکے اس کی طرف اس کے ایک لازم سے اشارہ کررہا ہے، یہ بھی مبالغہ کی ایک قسم ہے جس کے لئے استعارہ لایا جاتا ہے۔ یا شاعر کہتا ہے ؎ وَمَنْ قَصَدَ الْبَحْرَ اِسْتَقَلَّ السَّوَاقِیَا ـــــــــــــ جو سمندر کا قصد کرے گا وہ نہروں کو چھوٹا اور حقیر سمجھے گا ۔