الرحمۃ الواسعۃ فی حل البلاغۃ الواضحۃ |
لرحمة ا |
|
حل تمرین - ۹ جواب نمبر (۱) (ا) اطناب بذکر الخاص بعد العام (۱) اِقْرَأْ کُتَبَ الْأَدَبِ الْعَرَبِيِّ وَکِتَابَ الْأَغَانِيْ لِأَبِي الْفَرَجِ الْأَصْبَهَھانِيّ عربی ادب کی کتابیں اور ابو الفرج اصبہانی کی کتاب الاغانی پڑھیں۔ (۲) زُرْتُ آٓثَارَ مِصْرَ وَأَهْرَامَ الْجِیْزَةِہ مصر کے تاریخی مقامات میں نے دیکھے اور وادی کے ھرم دیکھے (ھرم : كهتے هیں وه مخروطی شكل كی عمارت جو مصر والے بادشاهوں كے مدفن كے لیے بناتے تھے) دونوں مثالوں میں زیادتی كا فائده خاص كے بلند مرتبه كوبتانا هے اور اس كی شان كو اجاگر كرنا هے، گویا كه وه ایك هی جنس هے جو مستقل بالذات هے۔(ب)اطناب بذکر العام بعد الخاص (۱) إِقْرَأْ تَارِیْخَ أَبِی بَکْرٍ وَالْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِیْنَ ـــــــــــحضرت ابوبکرؓ اور خلفاء راشدین کی تاریخ پڑھیں۔ (۲)وَمَا أُوتِيَ مُوسَى وَعِيسَى وَالنَّبِيُّونَ مِن رَّبِّهِمْ اور وہ چیز جو عطا کی گئی موسیؑ اور عیسیؑ اور انبیاء علیھم السلام کو ان کے رب کی طرف سے۔ دونوں مثالوں میں زیادتی کا فائدہ خاص پر خصوصی توجہ کے ساتھ عموم کا فائدہ دینا ہے، خاص کو دو مرتبہ ذکر کرنے کی وجہ سے، ایک مرتبہ علیحدہ ، اور ایک مرتبہ عام کے تحت۔جواب نمبر(۲) (۱)وَیَحْتَقِرُ الدُّنْیَا احْتِقَارَ مُجَرِّبِ یَرٰی کُلَّ مَافِیْهَھا ـــــــــــ وَحَاشَاهُ ـــــــــــ فَانِیًا ترجمہ:- ممدوح دنیا کو حقیر سمجھتا ہے، ایک تجربہ کار کے حقیر سمجھنے کی طرح، دنیا میں موجود ہر چیز کو ـــــــــــ اور اللہ اسکو پناہ میں رکھے ـــــــــــ فانی سمجھتا ہے۔ (۲) أَسْأَلُ اللّٰہهُ ـــــــــــ سُبْحَانَہهُ ـــــــــــ أَنْ یَّھهَبَ لَكَ الصِّحَّةَ ـــــــــــ میں اللہ سے درخواست کرتا ہوں ـــــــــــ اللہ کی ذات پاک ہے عیوب سے ـــــــــــ کہ اللہ تجھے صحت عطا کرے۔ پہلی مثال میں جملہ معترضہ کا فائدہ اس بات پر جلد متنبہ کرنا ہے کہ ممدوح کلام کے عموم میں داخل نہیں ہے