الرحمۃ الواسعۃ فی حل البلاغۃ الواضحۃ |
لرحمة ا |
|
سحاب سے وجہ جامع حسن تاثیر کی وجہ سے تشبیہ دی گئی، اور مشبہ بہ کو حذف کرکے اس کے ایک لازم ’’سقی‘‘ سے اشارہ کیا گیا ہے پس یہ استعارہ مکنیہ ہے اور چونکہ لفظ مستعار جامد ہے تو استعارہ اصلیہ ہے۔ (۳) تیسری مثال میں پھول کھلنے کو ضحک سے تشبیہ دی گئی ہے دونوں میں وجہ جامع ’’سفیدی کا ظاہر ہونا‘‘ کی وجہ سے، پھر مشبہ بہ پر دلالت کرنے والے لفظ کو مشبہ کے لئے مستعار لیا گیا، پھر ضحک سے ضاحکۃ مشتق کیا گیا تو یہ استعارہ تصریحیہ تبعیہ ہے، اور اس استعارہ سے قطع نظر کرتے ہوئے اس کے قرینے میں استعارہ جاری کرنا بھی جائز ہے، پس ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہری بھری زمین کو آدمی سے تشبیہ دی گئی ہے، پھر مشبہ بہ کو حذف کرکے اس کے ایک لازم’’ضاحکة‘‘سے اس کی طرف اشارہ کیا گیا تو یہ استعارہ مکنیہ ہوگا۔ اور نزول مطر کو رونے سے تشبیہ دی گئی دونوں میں پانی گرنے کے وجہ جامع کی وجہ سے ، پھر مشبہ بہ پر دلالت کرنے والے لفظ کو مشبہ کے لئے مستعار لیا گیا تو یہ استعارہ تصریحیہ اصلیہ ہے، اور’’العارض‘‘ میں استعارہ مکنیہ جاری کرنا جائز ہے۔التمرین - ۱ آنے والی مثالوں میں استعارہ اصلیہ اور تبعیہ بیان کریں۔ (۱) سری رفاء نے اپنے شعر کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے ؎ جب شعر کسی دن کانوں سے مصافحہ کرتا ہے، تو ضمیر اور دل مسکرانے لگتے ہیں۔ (۲) ابن رومی نے کہا ہے ؎ وہ ایسا شہر ہے جس میں میں نے جوانی اور بچپن گزارا ہے، اور میں نے کھیل کے کپڑے پہن لئے جب کہ وہ نئے تھے۔ (۳) اور اسی شاعر نے کہا ہے ؎ آپ کو ہمارا سلام کہہ رہی ہے ایسی باد شمال جس کے جھونکے ایسے باغ میں گھومتے ہیں جو راحت اور خوشبو پھیلاتا ہے، وہ باد شمال جب صبح سویرے چلتی ہے تو ٹہنیاں دوسری ٹہنیوں کے ساتھ سر گوشی کرنے لگتی ہیںاس کے بارے میں، اور پرندے علانیہ ایک دوسرے کو پکارنے لگتے ہیں۔