الرحمۃ الواسعۃ فی حل البلاغۃ الواضحۃ |
لرحمة ا |
|
(۱۱) شعر میں تذییل کے ذریعہ اطناب ہے جو ضرب المثل کے قائم مقام ہے، اسکا فائدہ سابق کلام کو مؤکد کرنا اور اسکو دل میں بٹھانا ہے۔ (۱۲) اللہ تعالی کے قول ’’وَيَأْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ ‘‘ میں ایضاح بعد الابہام ہے، اس سے پہلے جملہ ’’یَدْعُوْنَ إِلَی الْخَیْرِ‘‘ میں ابہام ہے، اور ابہام کے بعد وضاحت کا یہاں فائدہ معنی کو ابہام اور وضاحت دو مختلف صورتوں میں لانا ہے، تاکہ یہ سامع کے ذھن میں اچھی طرح بیٹھ جائے۔ (۱۳) آیت میں تکرار کے ذریعہ اطناب ہے، اسلئے کہ اللہ تعالی کا قول ’’تَعْفُوْا وَتَصْفَحُوْا وَتَغْفِرُوْا‘‘ تین جملے ہیں جنکے معانی مترادف ہیں، اور تکرار کا مقصد یہاں معافی کی ترغیب دینا ہے۔ (۱۴) آیت میں اطناب ہے تذییل کے ذریعہ جو ضرب المثل کے قائم مقام ہے، اسلئے کہ اللہ تعالی کا قول ’’إِنَّ النَّفْسَ لأَمَّارَةٌ بِالسُّوءِ ‘‘ سابق جملے کے مفہوم ہی کو مؤکد کررہا ہے۔ (۱۵) آیتِ کریمہ میں ’’رأیت‘‘ جملے کی تکرار کے ذریعہ اطناب ہے، اور اس تکرار کا تقاضا کرنے والی چیز، فاصلہ کا لمبا ہونا ہے، اور مقصد کلام کے شروع کو کلام کے آخر کے ساتھ مضبوط طریقہ پر مربوط کرنا ہے۔التمرین - ۶ آنے والے اشعار میں بلاغت کے عیوب جو آپ محسوس کررہے ہیں بیان کریں۔ (۱) ابونواس کا شعر ہے ؎ ہم وہاں ٹھہرے ایک دن، پھر دوسرے دن، پھر تیسرے دن، اور ایک ایسے دن ٹھہرے کہ سفر کا دن اسکا پانچواں دن تھا۔ (۲) نابغہ کا ایک گھر کی تعریف میں شعر ہے ؎ میںنے اس گھر کی نشانیاں واضح طور پر دیکھیں، تو چھ سال میں میں نے اسکو پہنچانا، اور یہ سال ساتواں ہے۔ (۳) ابو العتاھیہ کا شعر ہے ؎ اللہ کی قسم! سعید کا انتقال ہوگیا، اللہ تعالی سعید بن وھب پر رحم کرے۔ اے ابوعثمان! تونے تو میری آنکھوں کو رلادیا، اور اے ابوعثمان! تو نے تو میرے دل کو دردناک کردیا۔