الرحمۃ الواسعۃ فی حل البلاغۃ الواضحۃ |
لرحمة ا |
|
جائے، اور قران کریم نے بھی یہ طرز اختیار کیا ہے، اس لئے کہ قران نے اللہ تعالی کے نور کو تشبیہ دی ہے -- حالانکہ بلاشبہ اللہ تعالی کا نور تمام نوروں میں قوی ہے -- طاقچہ میں چراغ کے نور کے ساتھ، اس لئے کہ عرب سب متفق ہیں کہ اس نور کو تمام نوروں میں سب سے بڑا اور تمام روشنیوں میں بڑی گردانیں۔ اور ابو تمام کی طرف سے ایک دوسری دلیل سے بھی دفاع ممکن ہے جو ان ناقدین کی تنقید کو ختم کردے، اور وہ یہ ہے کہ شاعر اپنے ممدوح کو صرف اقدام وجرأت میں عمرو بن معدیکرب کے ساتھ تشبیہ نہیں دے رہا ہے، بلکہ وہ ممدوح کو تشبیہ دے رہا ہے اقدام میں عمرو کے ساتھ، اور سخاوت میں حاتم کے ساتھ، اور حلم میں احنف کے ساتھ اور ذکاوت میں ایاس کے ساتھ، گویا شاعر یوں کہہ رہا ہے کہ اللہ تعالی نے ان تمام صفات عالیہ کو ممدوح میں یکجا کردیا ہے جو ممدوح کے علاوہ بڑے بڑے لوگوں میں متفرق طور پر ہیں، اس سے یہ بات معلوم ہوگئی کہ ابو تمام کے شعر پر تنقید کی کوئی معقول وجہ نہیں ہے، اس لئے کہ شاعر نے اپنے ممدوح کو عرب کے ان شہ سواروں میں سے کسی کے ساتھ تشبیہ نہیں دی ہے جیسا کہ ناقدین سمجھ رہے ہیں، بلکہ اس نے یہ دعوی کیا ہے کہ اللہ تعالی نے ممدوح میں یہ عمدہ صفات یکجا کردئے ہیں جو ممدوح کے علاوہ کسی میں یکجا نہیں ہیں۔ اور جو تشبیہ ان ناقدین کو پسند ہے وہ تشبیہ مقلوب ہے، پس ناقدین یہ چاہتے ہیں کہ شاعر یوں کہتا کَأَنَّ إِقْدَامَ عَمْرٍو إِقْدَامُكَ، کَأَنَّ سَمَاحةَۃَ حَاتِمٍ سَمَاحَتُكَ، کَأَنَّ حِلْمَ اَحْنَفٍ حِلْمُكَ، کَأَنَّ ذَکَاءَ إِیَاسٍ ذَکَاءُ كَ ۔التمرین - ۹ چند تشبیہاتِ مقلوبہ بناؤ جس میں بہادر کی جرأت کا بیان ہو، اور کشتی کا ذکر ہو، اور کلام بلیغ کا ذکر ہو۔ (۱) شُجَاعٌ کَأَنَّ جُرْأةَۃَ اللَّیْثِ جُرْأَتُہهُ، وَحَدَّ السَّیْفِ عَزِیْمَتُہهُ، وَعُلُّوَّ النَّجْمِ هِمَّتُهُ، ـــــــــــــ وہ ایسا بہادر ہے کہشیر کی جرأت گویا اس کی جرأت ہے ـــــــــــــ تلوار کی دھار گویا اس کا پختہ ارادہ ہے، اور ستارے کی بلندی گویا اس کی ہمت ہے۔ (۲) رَکِبْتُ سَفِیْنَةً تَکَادُ الرِّیْحُ فِی السُّرْعَةِ تُشْبِھهُھهَا، وَکَأَنَّ الْجَبَلَ هَیْکَلُھهَا، وَالرَّعْدُ صَفِیْرُهَا ـــــــــــــ میں ایسی کشتی میں سوار ہوا جو تیز رفتاری میں ہوا کے مشابہ تھی، پہاڑ گویا اس کی شکل ہے، اور بجلی کی گرج اس کی سیٹی ہے۔