الرحمۃ الواسعۃ فی حل البلاغۃ الواضحۃ |
لرحمة ا |
|
ترجمہ:- نہر جاری ہوگئی جس کو میں نے آپ کے ایسے احسانات خیال کیا جو بغیر بخل کے كئے جاتے ہیں، اور بغیر احسان جتائے عطا ہوتے ہیں۔
شاعر مبالغہ میں زیادتی پیدا کرنے اور عمدگی کے اسلوبوں میں تفنن کے لئے تشبیہ مقلوب استعمال کررہا ہے، اور نہر کے پانی کو ممدوح کے احسانات سے تشبیہ دے رہا ہے جب کہ مشہوریہ ہے کہ ممدوح کے احسانات کو بہتی نہر سے تشبیہ دی جائے
یا شاعر کہتا ہے ؎
کَأَنَّہهُ حِیْنَ یُعْطِی الْمَالَ مُبْتَسِمًا صَوْبُ الْغَمَامَةِ تَھهْمِی وَهِیَ تَأْتَلِقُ
ترجمہ:- ممدوح جب مسکراتے ہوئے مال عطا کرتا ہے تو گویا وہ ایسے بادل کی موسلادھار بارش ہے جو چمکتے ہوئے برستا ہے۔
شاعر تشبیہ مرکب پیش کررہا ہے، جو ایسی دلکش تصویر پیش کررہی ہے جس سے تیرے سامنے ممدوح کی حالت کی منظر کشی ہوتی ہے کہ سخاوت کرتے وقت اس کی خوشی سے مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر رقص کرتی ہے۔
یا شاعر کہتا ہے ؎
جَادَتْ یَدُ الْفَتْحِ وَالْأَنْوَاءُ بَاخِلَةٌ وَذَابَ نَائِلُہهُ وَالْغَیْثُ قَدْجَمَدَا
ترجمہ:- فتح ابن خاقان کے ہاتھ نے سخاوت کی، جب کہ نچھتر بخل کررہے تھے، اس کی سخاوت بہہ رہی تھی جب کہ بادل جمے ہوئے تھے۔
اس میں شاعر ممدوح کی سخاوت اور بارش کے درمیان مماثلت پیدا کررہا ہے، اور دعوی کررہا ہے ممدوح کی سخاوت ختم نہیں ہوئی جبکہ نچھتر (ستارے جو مائل بہ غروب ہوں) منقطع ہوگئے اور بارش کے قطرے جم گئے۔
یا شاعر کہتا ہے ؎
قَدْ قُلْتُ لِلْغَیْمِ الرُّکَامِ وَلَجَّ فِي
إِبْرَاقِہهِ وَأَلَحَّ فِی إِرْعَادِهِ
لَاتَعْرِضَنَّ لِجَعْفَرٍ مُتَشَبِّھهًا
بِنَدَی یَدَیْہهِ فَلَسْتَ مِنْ أَنْدَادِهِ
ترجمہ:- میں نے تہہ بہ تہہ جمے ہوئے بادل سے کہا جب کہ وہ برابر چمک رہا تھا اور مسلسل کڑک رہا تھا، کہ تو