الرحمۃ الواسعۃ فی حل البلاغۃ الواضحۃ |
لرحمة ا |
|
کَالْبَحْرِ یَقْذِفُ لِلْقَرِیْبِ جَوَاهِرًا جُوْدًا وَیَبْعَثُ لِلْبَعِیْدِ سَحَائِبَا ترجمہ:- ممدوح سمندر کی طرح ہے جو قریب والوں کے لئے جواہرات پھینکتا ہے اور دور والوں کے لئے بادلوں کو بھیجتا ہے۔ شاعر ممدوح کو سمندر سے تشبیہ دیکر آپ کے تصور وخیال کو ممدوح اور سمندر کے درمیان مماثلت کی طرف لے جارہا ہے جو قریب والوں کے لئے تو موتی پھینکتا ہے اور دور والوں کے لئے بادلوں کو بھیجتا ہے۔ یا شاعر کہتا ہے ؎ هُوَ الْبَحْرُ مِنْ أَیِّ النَّوَاحِیْ أَتَیْتَہٗه فَلُجَّتُہهٗ الْمَعْرُوْفُ وَالْجُوْدُ سَاحِلُہهُ ترجمہ:- ممدوح سمندر ہے چاہے جس جانب سے بھی تم ان کے پاس آؤ، تو اس کی گہرائی احسان وبھلائی ہے اور اس کا ساحل سخاوت ہے۔ اس میں شاعر یہ دعوی کررہا ہے کہ ممدوح خود سمندر ہے اور ایسی انوکھی تشبیہ پیش کررہا ہے جو مبالغہ اور پورے طور پر مماثلت کے دعوی پر دلالت کررہی ہے۔ یا شاعر کہتا ہے ؎ عَلَا فَلَا یَسْتَقِرُّ الْمَالُ فِی یَدِهِ وَکَیْفَ تُمْسِكُ مَاءٍ قُنَّةُ الْجَبَلِ ترجمہ:- وہ بلندی پر جا پہنچا کہ مال اس کے ہاتھ میں نہیں ٹھہرتا ہے، اور پہاڑ کی چوٹی پانی کو روک بھی کیسے سکتی ہے۔ اس میں شاعر مخفی طریقہ پر تشبیہ پیش کررہا ہے، تاکہ کلام بلاغت کے اعلی درجہ پر پہنچ جائے، اور تاکہ وہ آپ کے سامنےتشبیہ ضمنی کے طور پر دعوی کے ساتھ ساتھ دلیل بھی پیش کردے، کیونکہ وہ یہ دعوی کررہا ہے کہ ممدوح کے بلند مرتبہ ہونے کی وجہ سے مال اس کے ہاتھ میں نہیں ٹھہرتا ہے، اور اس پر دلیل یہ پیش کی کہ پہاڑ کی چوٹی پانی کو روک بھی کیسے سکتی ہے۔ یا شاعر کہہ رہا ہے ؎ جَرَی النَّھهْرُ حَتّٰی خِلْتُہهُ مِنْكَ اَنْعُمَا تُسَاقُ بِلَاضَنٍّ وَتُعْطٰی بِلَامَنٍّ