الرحمۃ الواسعۃ فی حل البلاغۃ الواضحۃ |
لرحمة ا |
|
لِلْعُلُوْمِ الْفَضْلُ الْأَوَّلُ عَلَی الْإِنْسَانِ، وَإِنّهَھَا لَأَحَقُّ مِنَ الْآدَابِ بِعِنَایَتِہهِ وَأَوْلٰی بِرِعَایَتِہهِ، فَھهِیَ أَصْلُ مَدَنِیَّتِہهِ وَأَسَاسُ حَضَارَتِہهِ بِھهَا ارْتَفَعَتِ الصِّنَاعَاتُ، وَتَقَدَّمَتْ وَسَائِلُ السَّفَرِ، وَنَضِجَتْ فُنُوْنُ الطِّبّ وَالْعِلَاجِ، وَقَدِ اسْتَطَاعَ الْإِنْسَانُ بِفَضْلِھهَا اَنْ یَسْتَخْرِجَ کُنُوْزَ الْأَرْضِ، وَأَنْ یَسْتَخْدِمَ قُوَی الطَّبِیْعَةِ، وَأَنْ یُسَخِّرَ الْبَحْرَ وَالْھهَوَاءَ لِإِرَادَتِہهِ وَمَشِیْئَتِہهِ، وَإِنَّكَ لَتَرَاهُ الْأٰنَ فِی الْحَرْبِ أَقْوٰی شَوْکَةً وَأَمْضٰی سِلَاحًا، وَتَرَاهُ فِی السِّلْمِ مَوْفُوْرَالرَّاحَةِ رَافِلًا فِی أَثْوَابِ النَّعِیْمِ. ترجمہ:- علم سائنس کا پہلا درجہ ہے علم ادب پر، اور بیشک یہ توجہ اور اہتمام کا علم ادب سے زیادہ حقدار ہے، پس یہ تہذیب وتمدن کی اصل اور بنیاد ہے، اسی سے صنعتیں ترقی کرتی ہیں، اور سفر کے وسائل آگے بڑھتے ہیں، اور طب وعلاج کے فنون کو پختگی ہوتی ہے، اور انسان اسی کے بدولت زمین کے خزانے نکالنے اور فطری توانائیوں کو کام میں لانے پر قدرت حاصل کرتا ہے، اور سمندر اور ہوا کو اپنے ارادے ومشیت کے تابع کرسکتا ہے، اور ابھی تم اس کو لڑائیوں میں مضبوط قوت اور تیز ہتھیاركے ساتھ دیکھو گے، اور صلح وآشتی میں اس کو راحت سے بھرپور اور نعمت کے کپڑوں میں ناز کرتے ہوئے دیکھو گے۔ (۲) اگر آپ علم ادب کے طالب علم ہیں، تو آپ علم ادب کی خصوصیات اور اس کی سائنس پر فضیلت بیان کریں خبر کی تمام اقسام کو استعمال کرتے ہوئے اَلْآٓدَابُ تَقُصُّ عَلَیْكَ أَخْبَارَ الْغَابِرِیْنَ، وَتَشْرَحُ لَكَ شَرَائِعَ الْأُمَمِ، وَتَزِیْدُكَ عِلْماً بِاللُّغَاتِ وَأُصُوْلِھهَا، وَتُبَیِّنُ عَلَاقَةَ الْإِنْسَانَ بِأَخِیْہهِ، وَإِنَّھهَا بِذٰلِكَ لَتَخْتَلِفُ عَنِ الْعُلُوْمِ فَھهِیَ تُقَوِّي فِی الْإِنْسَانِ جَانِبَہهُ الْأَدَبِيّ، أَمَّا الْعُلُوْمُ فَنَفْعُھهَا مَادِّيٌّ، وَإِنَّ فِی الْآدَابِ لَمَجَالًا لِلْعِظَةِ وَالاِعْتِبَارِ، فَھهِيَ عُنْوَانُ الْمَاضِيْ وَعُدَّۃةُ الْمُسْتَقْبَلِ، وَإِنَّھهَا لَعَوْنٌ عَلٰی نَقْلِ أُصُوْلِ الْمَدَنِیَّةِ مِنْ شِعَبٍ إِلٰی آخَرَ، وَقَدْ تَکُوْنُ الْعُلُوْمُ أَدَاۃةَ شُرُوْرٍ وَمِعْوَلَ فَسَادٍ فَتُثِیْرُ الْحُرُوْبَ وَتَقْطَعُ بَیْنَ النَّاسِ، أَمَّا الْآٓدَابُ فَإِنَّھهَا دَائِمًا رَسُوْلُ سَلَامٍ یَبُثُّ أَسْبَابَ الْمَحَبّةَۃَ وَالْوِئَامِ ترجمہ:- علم ادب تیرے سامنے گذشتہ لوگوں کی خبریں بیان کرتا ہے، اور امتوں کے قوانین کی وضاحت کرتا ہے، عربی زبان اور اس کے اصول کے علم میں تیرے اندر اضافہ کرتا ہے، اور انسان کا اپنے بھائی کے ساتھ تعلق