احتساب قادیانیت جلد نمبر 57 |
|
کی توہین وتحقیر وتذلیل کی دیکھو ازالہ۔ لہٰذا بقول آپ کے مرزا قادیانی یہودی ہوئے۔ قولہ… یہودی عامل بالحدیث تھے اور اہلحدیث کہلاتے تھے۔ اقول… ’’لعنۃ اﷲ علی الکافرین‘‘ اہلحدیث مخالف کتاب وسنت کو مردود کہتے ہیں اگر یہود ایسے ہوتے تو عیسیٰ علیہ السلام کے آنے کی کیا ضرورت تھی (کیونکہ جب تک لوگ کتاب وسنت کو نہیں چھوڑتے ہرگز دوسرا نبی نہیں آتا) جب خدا کا راستہ چھوٹ جاتا ہے۔ اسی وقت نبی کی ضرورت ہوتی ہے۔ لہٰذا عیسیٰ علیہ السلام کا آنا بتا رہا ہے کہ یہودی دوسرے مسلک پر تھے اورکیا عجب ہے جو ان کا مسلک ایسی تقلید ہو جیسے احمدی آنکھ بند کئے ہوئے مرزا قادیانی کی تقلید کررہے ہیں جس کا اشارہ غیر المغضوب علیہم میں ہے اور اگر آپ کو دعویٰ ہو کہ وہ اہلحدیث ہی تھے تو ثبوت صحیح پیش فرمائیے ورنہ گریبان میں منہ ڈالئے۔ اور شرمائیے۔ قولہ… ان غیر مقلدوں نے جن کے فرقہ میں شاید آپ بھی شمار کئے جاتے ہیں۔ تمام مقدسوں کو لفظ مخلوق میں شامل کرکے اﷲ کی شان کے آگے چمار سے بھی زیادہ ذلیل بنا دیا۔ اقول… یہ جناب کی دوسری خوش فہمی ہے اپنی رائے سے مجھ کو کسی فرقہ میں کیوں شامل کیا۔ آپ کا یہ اعتراض تقویۃ الایمان پر ہے (اول تو ہمارے مذہب کا مدار کسی عالم کی تصنیف پر نہیں ہے) مگر اتنا یاد رہے کہ یہ وہی کتاب ہے اور یہ وہی مولانا ہیں جن کی تعریف آپ کے مرزا قادیانی اور ان کے داہنے بائیں بازو حکیم نور الدین صاحب اور مولانا محمد احسن صاحب امروہی نے کی ہے۔ قطع نظر اس کے میں پوچھتا ہوں کہ انبیاء اور اولیاء مخلوق ہیں یا نہیں اگر ہیں تو اس جملہ کا کیا مطلب ہے کہ (مخلوق میں شامل کرکے) اور اگر مخلوق نہیں تو خالق ہوئے مرزا قادیانی کی تائید میں ایسی آنکھ بند کی کہ کروڑوں خدا بنا دئیے۔ اور واقعی بات یہ ہے کہ خدا کی شان کے روبرو کوئی ہولاشے محض ہے ’’قل انما انا بشر مثلکم۔ انما الہکم الٰہ واحد‘‘ ارشاد فرمائیے آگے آپ نے بے جا اور فضول بلا دلیل نبوت جناب عیسیٰ و وجود دجال پر اعتراض کیا ہے جو احادیث صحیحہ سے ثابت ہے تو یہ اعتراض مخبر صادقa پر کیجئے ان کو یہودی یا عیسائی فرمائیے اور آپ کو زیبا بھی ہے۔ کیونکہ آپ کے پیر صاحب روز بروز درجہ بڑھاتے جاتے ہیں۔ مجدد بنے پھر مہدی مثل عیسیٰ وآدم ونوح وموسیٰ وابراہیم وغیرہ ۔ یہاں تک کہ بروزی محمدa بھی بن گئے۔ ابن اﷲ ہونے کا بھی دعویٰ کیا ہاں خدائی کا دعویٰ باقی ہے جو دجال کرے گا۔