احتساب قادیانیت جلد نمبر 57 |
|
جھٹلائے۔ وہ مفتری ہے کذاب ہے۔ ملحد ہے مرتد ہے۔ انہوں نے حدیث میں آنحضرتa کی پیشینگوئی دیکھ لی کہ میرے بعد تیس جھوٹے دجال پیدا ہوں گے اور ان میں سے ہر ایک نبوت کا دعویٰ کرے گا۔ حالانکہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ پھر وہ آپ کی کتابیں کیوں دیکھیں اور انہیں دیکھنے کی ضرورت ہی کیا ہے؟ اور بیشتر علماء اور مشائخ دیکھتے بھی ہیں تو اس لئے کہ آپ کے ملحدانہ دعوئوں کی تردید کریں تاکہ ان کا زہریلا اثر مسلمانوں کی طباع پر نہ پڑے۔ اور غالباً آپ کی کوئی ایسی کتاب باقی نہیں جس کی کماحقہ تردید نہ ہوگئی ہو اور اگر کوئی باقی ہے تو ضرور اس کی تردید ہوگی۔ انشاء اﷲ! اور تردید کے لئے کیا ضمیمہ شحنۂ ہند کچھ کم ہے جو نہ صرف آپ کے عقائد کی بلکہ ہر خیال کی ہفتہ وار تردید کرتا رہتا ہے۔ اگرچہ آپ کے مقابلہ میں نہ کوئی زبردست انجمن ہے نہ کوئی معقول سرمایہ ہے تاہم اسلام اور اہل اسلام کے ایسے سچے ہمدرد موجود ہیں جو خالصاً للّٰہ جیب خاص سے بلاشراکت غیر تردیدی کتابیں چھپوا کر اکثر مفت تقسیم فرماتے اور غیر ذی استطاعت مسلمانوں کو اپنا ممنون بناتے ہیں۔ جزاہم اﷲ خیر الجزاء! آپ تو بار بار پانچ پانچ ہزار اور دس دس ہزار روپیہ دینے کا اعلان دیتے ہیں گویا یہ ثابت کرتے ہیں کہ میں بڑا کوڑیالا اور قارون کا سگا ہوں۔ مگر ہمارے علماء اور مشائخ نے کبھی کسی کو ذرہ بھر بھی کسی طمع دنیوی کی چاٹ نہیں دی اور نہ آپ کی طرح کسی سے چندے کی مد میں ایک کوڑی مانگی۔ تاہم سچے اسلام کا معجزہ دیکھئے کہ سینکڑوں اور ہزاروں کی کتابیں آپ کی کتابوں کی تردید میں شائع ہوچکیں اور ہورہی ہیں۔ ضمیمہ شحنۂ ہند بھی ایسے ہی خالص حضرات کی فیاضی سے جاری ہے جو ہزار کتابوں کے برابر ہے اور آپ سے اس کا کوئی جواب بن نہیں پڑا۔ آپ کی کتابیں شوق سے تو وہی لوگ دیکھیں گے جو بالکل چوپٹ ہوگئے ہیں۔ تردید کرنے والے تو اسی طرح دیکھیں گے جس طرح کوئی شخص قضا حاجت کے لئے جاتا ہے اور بول وبراز پر بھی مجبوراً اس کی نظر جاپڑتی ہے۔ ۵ … مرزائیوں کی تعداد مولانا شوکت اﷲ میرٹھی! فریب بہت جلد کھل جاتا ہے۔ جھوٹ کے پائوں نہیں ہوتے۔ اب مرزا قادیانی اعلان دیتے ہیں کہ ہر مقام کے مرزائی اپنی صحیح تعداد لکھ کر بھیجیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ خود مرزا قادیانی کو اپنے چیلوں کی تعداد معلوم نہیں۔ اگر یہی بات ہے تو تقریباً دو لاکھ تعداد کیوں کر لکھ دی۔ اس اعلان میں کوئی چال ہے جو بہت جلد کھل جائے گی۔ انشاء اﷲ تعالیٰ!