احتساب قادیانیت جلد نمبر 57 |
|
کی عمر ۱۲برس کی ہوگی اور یورپ، امریکہ، افریقہ میں مطابع کا وجود اپنی جماعت کے بی۔اے، ایم۔اے صاحبان سے پوچھ لیں۔ ’’اذ البحار فجرت‘‘ قیامت کی اور ظہور مہدی (مرزاقادیانی) کی ایک نشانی یہ ہوگی کہ دریاؤں سے نہریں کاٹ کر آبپاشی کے واسطے لائی جاویں گی۔ حقیقت میں یہ بات تو بالکل نئی ہے۔ دنیا میں حال کے سوا کبھی نہریں نہیں نکلیں اور نہ کسی نے نکالیں؟ ’’سبحان الذی اسریٰ بعبدہ لیلاً‘‘ معارف، مسجد اقصیٰ سے مسجد قادیان مراد ہے اور بیت المقدس سے موضع قادیان جناب کجا کادیان کودیان اور کجا مسجد اقصیٰ اور کجابیت المقدس ؎ چہ نسبت خاک رابا عالم پاک آپ کے دل میں یہی عظمت اسلامی ہے اور اسی پر دعوئے نبوت ہے؟ ’’اذ لشمس کورت‘‘ قیامت کی ایک یہ نشانی ہے کہ مہدی (مرزاقادیانی) کے ظہور کی ضرورت ہے۔ کیونکہ جہالت چھا گئی ہے۔ جناب من اور تو کوئی جہالت نہیں چھائی بفضل خدا ہر طرح سے آفتاب علم چمک رہا ہے۔ ہاں! اگر جہالت چھائی ہے تو اس واسطے کہ ایسے کورانہ معارف بیان ہوتے ہیں۔ چور کی داڑھی میں تنکا۔ ہاں! مسلمانوں پر ظلمت کیوں نہ چھائے۔ جب کہ قرآن مجید کی یہ قدر کی جاتی ہے اور ایسے معارف بیان کئے جاتے ہیں۔ راقم! مرزائیوں کا خیرخواہ! از مردان! ۲… حیات وممات مسیح میرٹھ میں آج کل مرزاقادیانی کے ایک قائم مقام تشریف کا پوٹلہ لائے ہیں۔ وہی حیات وممات مسیح کا باسی تباسی مسئلہ عوام جہلاء کے روبرو پیش کرتے ہیں۔ جس کی نہ صرف ضمیمہ شحنہ ہند میں بلکہ علماء کے مختلف رسالوں میں بارہا تردید ہوچکی ہے اور حال میں حضرت پیر مہر علی شاہ صاحبؒ نے تو اپنی کتاب سیف چشتیائی میں مرزاقادیانی کے دعوے ممات مسیح کا اس دھڑلے اور زور شور سے استیصال کیا ہے کہ اس سے بڑھ کر ہو نہیں سکتا اور مرزاقادیانی اور ان کے چیلوں کے دلوں میں کچھ بھی انصاف اورحقانیت ہے تو پیر صاحب کے دلائل قاطعہ کے سامنے گردن تسلیم خم کریں گے۔ خوبی یہ ہے کہ مرزاقادیانی باوصف دعویٰ مسلمانی وہی اعتراضات کرتے ہیں جو آریا اور دھرئیے اور یہودی کرتے ہیں کہ خدا کا کہاں ہے اور کیسا ہے۔ کیا وہ اپنے عرش (مکان یا بنگلہ یا