احتساب قادیانیت جلد نمبر 57 |
|
تعارف مضامین … ضمیمہ شحنۂ ہند میرٹھ سال ۱۹۰۳ء کے ۱۶؍ اگست کے شمارہ نمبر۳۱؍کے مضامین ۱… مرزا قادیانی کا مکاشفہ یا تریا چلتر مولانا عبدالحق کوٹلہ سرہند! ۲… وہی حیات وممات مسیح۔ مولانا شوکت اﷲ میرٹھی! ۳… بہت بڑا نکتہ فرمایا۔ مولانا شوکت اﷲ میرٹھی! ۴… الحاد کی تعلیم۔ مولانا شوکت اﷲ میرٹھی! ۵… بے معنی الہام۔ مولانا شوکت اﷲ میرٹھی! ۶… مسیح موعود کے زمانے میں عمریں بڑھ جائیں گی۔ مولانا شوکت اﷲ میرٹھی! ۷… اسلام سے ارتداد کی وجہ۔ مولانا شوکت اﷲ میرٹھی! اسی ترتیب سے پیش خدمت ہیں: ۱ … مرزا قادیانی کا مکاشفہ یاتریا چلتر مولانا عبدالحق کوٹلہ سرہند! بسم اﷲ الرحمن الرحیم۔ حامداً ومصلیاً۰ اما بعد! مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ مولوی نذیر حسین صاحب بعد انتقال مرزا قادیانی کی جماعت میں داخل ہوئے۔ البدر نمبر۱ ج۱۔ اس مکاشفہ کے سمجھنے میں مرزا قادیانی نے بڑا دھوکہ کھایا کہ اپنی ناپاک جماعت سمجھ لی۔ مولوی صاحب تو اس جماعت میں داخل ہوئے جس کا ذکر حدیث ماانا علیہ واصحابی کے متصل ہوا ہے۔ مشکوٰۃ اور جس جماعت کے تابع مولوی صاحب زندگی میں تھے اورجس جماعت سے علیحدہ ہونے کے باعث مرزا قادیانی معہ ذریتہ خود بحکم ید اﷲ علی الجماعت ومن شذشذ فی النار قابل دخول جہنم بن رہے ہیں۔ یہ عجیب قصہ اور غریب معمہ ہے کہ مولانا صاحب تو مرزا قادیانی کو زندیق دجال فرما رہے اور مرزا قادیانی ان کو اپنی جماعت میں داخل شدہ بتاتے ہیں۔ ہذا شیٔ عجیب۔ نہیں نہیں مرزا قادیانی نے اپنے مریدین کے پہچانے کے واسطے تریابید کا چلتر کھیلا ہے۔ یہ تو اس عالم غیبی کا حال ہے جس کی خبر کوئی سوائے مخبر صادق آنحضرتa کے نہیں دے سکتا اور جس پر سوائے عالم الغیب والشہادت کے کسی کو اطلاع نہیں مگر مرزا قادیانی جو کچھ کہیں بحکم حب الشیٔ یعمی ویعم مرزائی اندھا