احتساب قادیانیت جلد نمبر 57 |
|
۲… بقیہ کتاب عصائے موسیٰ کے جواب سے مرزائیوں کا عجز اعتراض… ’’(اشتہار ص۴) یا یوں کہو کہ زمانہ کی کوئی ضرورت نہ انہیں (الٰہی بخش کو) بلاتی ہے نہ کسی مسند پر جگہ دیتی ہے۔ وہ اس بے بہار بادل کی طرح ہیں جس میں مفسدہ اور خرابی کے سواء کچھ نہیں۔‘‘ تردید… ضرورت کاجواب گذر چکا ہے۔ بے شک منشی الٰہی بخش اسلام کو مکمل یقین کر کے آنحضرتa کے بعد کسی ضرورت واصلاح کے ردوبدل کے قائل اور معتقد نہیں اور نہ وہ کسی حاجت مند عاشق دنیا کی طرح نفسانی اعتراض کے لئے مسند شیخی ’’انا خیر منہ‘‘ پر بیٹھنے کے خواہاں ہیں۔ وہ تو ہر حالت ووضع میں مطیع احکام شریعت رہ کر ’’ربنا ظلمنا انفسنا وان لم تغفرلنا وترحمنا لنکوننّ من الخاسرین‘‘ پڑھنا پسند کرتے ہیں۔معترض کی معرفت علوم قرآنی ملاحظہ ہو کہ خوبی قسمت سے اس کو اﷲتعالیٰ کی مخلوق میں بے بہار بادلوں وغیرہ میں مفسدہ وخرابی کے سواء کچھ نظر نہیں آتا۔ یہ اپنی اپنی قسمت ہے۔ لیکن اگر وہ منیب مسلمانوں کی طرح تدبر وتفکر کرتا اور تذکر لیتا تو اسکو معلوم ہوتا کہ عقائد اسلام کے موافق اس حکیم علی الاطلاق نے کوئی چیز عبث اور باطل اور محض شر خلائق پیدا نہیں کی۔ چنانچہ آیات قرآنی شاہد حال ہیں۔ ۱… ’’الذین یذکرون اﷲ قیاماً وقعوداً وعلی جنوبہم ویتفکرون فی خلق السموات والارض ربنا ما خلقت ہذا باطلا سبحانک فقنا عذاب النار (آل عمران:۱۸۸)‘‘ ۲… ’’ماخلقنا السماء والارض وما بینہما باطلا ذالک ظن الذین کفروا فویل للذین کفروا من النار‘‘ ۳… ’’وما خلقنا السموات والارض وما بینہما لا عبین‘‘ اور ہر شے کی پیدائش میں اس حکیم قدر کے لاتحصی ولاتعد فائدے اور حکمتیں بھری پڑی ہیں جن کو انسان بے بنیان کی کیا ہستی وطاقت ہے کہ بہ تمامہ سمجھ سکے۔ الاّماشاء اﷲ! دیکھو بادل اور آندھیاں جب آتی ہیں تو ان میں ہزارہا فوائد ومنافع بھی ہوتے ہیں۔ تعفن وبدبو دور ہوتی ہے۔ ہوا صاف ہو جاتی ہے۔ کئی قسم کی بیماریاں دور ہو جاتی ہیں۔ وغیرہ اور ایسا ہی بادل اور بارش کا حال ہے۔ پس بڑی بھاری بے ادبی اور پرلے درجہ کی کور چشمی اور ناحق پرستی ہے کہ متکبر وجاہل انسان قصور نظر اور ناقص فہم سے کام لے کر بادلوں اور انسانوں اور دیگر مخلوقات الٰہی کے وجود کو مفسدہ خرابی اور لاطائل سمجھے اور مذکورہ بالا آیات قرآنی کی کچھ بھی تعظیم وتکریم نہ کرے۔ یہ