احتساب قادیانیت جلد نمبر 57 |
|
لوگ گھانس کھا گئے ہیں یا مرزاقادیانی کو مالیخولیا ہے یا عمداً مکاری اور عیاری ہے۔ ظلی اور بروزی دعوے نے تو موعودیت کو بھی کھودیا۔ کوئی ظل اپنی اصل کے خلاف نہیں ہوتا۔ آنحضرتa نے عیسیٰ مسیح کی معصومیت کی تصدیق کی۔ مرزاقادیانی ان کو گالیاں دیتا ہے اور فاسق وفاجر بتاتا ہے۔ پس ظلیت کہاں رہی اور ساتھ ہی موعودیت بھی باطل ہو گئی۔ مرزاقادیانی اور مرزائیوں کا دعویٰ ہے کہ آیت ’’بل رفعہ اﷲ الیہ‘‘ سے رفع جسمانی نہیں نکلتا۔ ہم کہتے ہیں کہ رفع روحانی کہاں نکلتا ہے۔ وہ یہ آیات پیش کرتے ہیں۔ ’’نرفع درجات من نشاء‘‘ اور ’’الیہ یعصد الکلم الطیب والعمل الصالح یرفعہ‘‘ ہم کہتے ہیں پہلی آیت میں درجات کا لفظ اور دوسری آیہ میں عمل صالح کا لفظ موجود ہے۔ یعنی ہم جس شخص کا درجہ چاہتے ہیں بلند کرتے ہیں اور عمل صالح خدا ہی کی جانب بلند ہوتے ہیں۔ اب ہم پوچھتے ہیں کیا حضرت مسیح علیہ السلام کوئی درجہ ہیں یا کوئی عمل ہیں جو خدا کی جانب بلند ہوئے۔ آیت میں یوں نہیں فرمایا کہ: ’’بل رفع اﷲ درجاتہ‘‘ بلکہ خود حضرت عیسیٰ مسیح کو رفع کا مفعول بنایا ہے۔ یعنی اٹھا لیا ہم نے عیسیٰ کو اپنی جانب۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ ان جہلاء کو تاویل، کرنی بھی نہیں آتی۔ قدم قدم پر ٹھوکر کھاتے ہیں اور سر کے بل گرتے ہیں۔ ایڈیٹر! ۳… بے معنی الہام الحکم ہمارے نام نہیں آتا۔ لیکن شاگردان رشید جاسوس بن کر کہیں نہ کہیں سے اڑالاتے ہیں۔ ۱۷؍ستمبر رواں کاالحکم عجیب وغریب ہے۔ اس میں لکھا ہے کہ مرزاقادیانی کے فرزند ارجمند بشیر کی آنکھیں ایسی خراب تھیں کہ بینائی کو سخت نقصان پہنچنے کا اندیشہ تھا۔ آخر آپ نے دعا فرمائی تو یہ الہام ہوا: ’’برق طفلی بشیر‘‘ اس الہام میں بھی مرزاقادیانی کا خدا ویسا ہی غپا کھا گیا جیسا ’’صح زوجتی‘‘ اور ’’جری اﷲ فی حلل الانبیاء‘‘ والے الہام میں۔ وہاں مرزاقادیانی کے خدا کی بی بی اچھی ہوئی تھی۔ یہاں خدا کے لڑکے کی آنکھیں اچھی ہوئی ہیں۔ کیونکہ خدا نے بشیر کو طفلی کہہ کر الہام میں پکارا ہے۔ اگر یہ کہو کہ بشیر پوتا ہے یعنی خدا کے لے پالک بیٹے کا بیٹا ہے۔ حقیقی بیٹا نہیں تو یہ اعراض کچھ بھاری نہیں۔ پوتے کو بھی لڑکا اور بیٹا کہہ دیتے ہیں۔ جیسا زوجتی میں کہ باپ کی زوجہ اور بیٹے کی زوجہ مرزائی شریعت میں دونوں ایک ہیں۔ دونوں میں بانس بھر کیا معنے ہاتھ بھر بلکہ بالشت بھر بلکہ انگشت بھر بلکہ جو بھر بلکہ تل بھر بھی فرق نہیں۔ پھر خیریت سے برق اور اعراب بھی لگا دئیے ہیں۔ اس کو تبریق (تفصیل) سے صیغہ امر بنایا ہے۔ تبریق کے معنے لغت میں آنکھ اچھی طرح کھولنا اور تیز دیکھنا ہیں تو یہ معنے ہوئے کہ