احتساب قادیانیت جلد نمبر 57 |
|
رحمت سے منہ پھیرتے ہو۔ غفلت کرتے ہو۔ دیکھو! زندگی چند روز ہے۔ شاید مرگ مہلت نہ دے۔ مکررسہ کرر ہماری رفیقانہ التماس یہی ہے کہ توبہ کرو اور اس گمراہی کے راستے سے باز آؤ ؎ توبہ کر اب بھی تو کہ در توبہ باز ہے راقم: شاکر (میرٹھی) از قلعدار گجرات! ۲… وہی ممات مسیح کسی نبی کے ایک معجزے کا انکار تمام انبیاء اور ان کے معجزات کا انکار ہے جس کو ایک سچا مسلمان الحاد وارتداد سمجھے گا۔ مگر مرزاقادیانی اور ان کی امت عمداً معجزات انبیاء کا بڑے دھڑلے سے انکارکر رہی ہے اور باایہنمہ مسلمانی کا دعویٰ ہے۔ دنیا میں کون سا کلام ہے جس کی تاویل نہیں ہوسکتی اور ہم لکھ چکے ہیں کہ تاویل ہمیشہ جھوٹے دعوے اور جھوٹی بات کی ہوتی ہے۔ امر حق اور واقعیت کو تاویل سے کیا واسطہ۔ روز روشن تاویل سے ہرگز شب تاریک نہیں بن سکتا اور نہ اس کا عکس ممکن ہے۔ جس طرح ایک جھوٹ کے لئے بہت سے جھوٹ بولنے پڑتے ہیں۔ اسی طرح ایک تاویل کے لئے بہت سی تاویلیں چھانٹنی پڑتی ہیں۔ سیدنا مسیح علیہ السلام کی نسبت مرزاقادیانی فرماتے ہیں کہ ’’رفع اﷲ‘‘ سے مراد رفع روحانی ہے۔ مگر اس میں عیسیٰ مسیح کی کیا خصوصیت نکلی؟ ایک چیونٹی بھی مر کر رفع روحانی کا درجہ حاصل کر لیتی ہے۔ پھر ’’ما قتلوہ وما صلبوہ‘‘ کے بعد مرزاقادیانی کے رفع مزعوم نے کیا فائدہ دیا۔ اس صورت میں تو آیت کا سیاق یوں مقتضی تھا۔ ’’لما قتلوہ وصلبوہ رفعہ اﷲ الیہ‘‘ پھر جسم سے روح کے نکل جانے یا رفع ہو جانے میں شبہ کیسا۔ یعنی ’’ولکن شبہ لہم‘‘ بالکل حشو ٹھہرتا ہے۔ (معاذ اﷲ) پھر جناب باری کا مکرر بطور تاکید واصرار یعنی ’’وما قتلوہ یقیناً‘‘ کے بعد ’’بل رفعہ‘‘ فرمانا تو اور بھی فضول ہوتا ہے۔ کاش مرزاقادیانی سمجھیں کہ رفع روحانی قتل سے متعلق ہوگا نہ کہ عدم قتل سے۔ کیونکہ یہ ایک فطری امر ہے کہ جب کوئی ذی روح قتل کیا جاتا ہے تو فوراً رفع روحانی ہو جاتا ہے یعنی روح اٹھ جاتی ہے اور جب کہ عیسیٰ مسیح قتل ہی نہیں کئے گئے۔ جیسا کہ ’’وما قتلوہ وما صلبوہ‘‘ سے ثابت ہے تو رفع روح یا سلب روح چہ معنے دارد! آپ شایدپھر تاویل کریں گے کہ رفع روحانی سے مراد روح کا رفیع الدرجات ہونا ہے توکیا اس سے پہلے مسیح علیہ السلام مثل کل انبیاء رفیع الدرجات نہ تھے۔ ایسا عقیدہ تو کسی آریا یا دہریہ کا ہوسکتا ہے نہ کہ کسی مسلمان کا۔ پھر یہ عقیدہ کہ عیسیٰ اب رفیع الدرجات ہوئے۔ پہلے نہ ہوئے تھے۔ آپ کو عیسائیوں کے مسئلہ کفارہ کا معتقد بناتا ہے۔