احتساب قادیانیت جلد نمبر 57 |
|
مسیحؑ سے عداوت ہے۔ لہٰذا انہوں نے ان دونوں مقدس متبرک خطابوں سے انکار کرکے اپنے کو روح الشیطان اور کلمتہ ابلیس کہلانا پسند فرمایا۔ سچ ہے جیسی روح ویسے ہی فرشتے اور جیسا منہ ویسے ہی طمانچے۔ جب روح اﷲ اور کلمتہ اﷲ کہلانے سے عار ہے تو آپ مثیل المسیح اور پھر اصیل المسیح یعنی عین میں مسیح موعود کیونکر ہیں۔ آپ نے تو اپنی آبرو پر خود پانی پھیر دیا۔ پھر آدھا تیتر آدھا بٹیر بھی ہے کیا معنی کہ آپ روح اﷲ اور کلمتہ اﷲ تو نہیں ہیں۔ ہاں مسیحیوں کے عقیدے کے موافق ابن اﷲ (لے پالک) ضرور ہیں یعنی اسلام سے خارج ہوکر عیسائیوں میں ملے ہیں مگر ذرا عیسائیوں سے تو پوچھو کہ وہ آپ کو کیا سمجھتے ہیں؟ اتنا تو ہم کو معلوم ہے کہ جب کسی مسیحی کے سامنے آپ کا تذکرہ ہوتا ہے تو وہ دھار مارنے کو تیار ہوجاتا ہے۔ الغرض آپ ادھر تو مسلمانوں کے مردود، ادھر مسیحیوں کے مطرود، اور آریوں نے تو جیسا نکدم کیا ہے آپ کا جی ہی خوب جانتا ہے پھر کس برتے پر تتا پانی آپ کی تو حسب تعل شوکت اﷲ القہاریہ حالت ہے۔ ؎ نفرت ہے جو مومن کو تو ہے گبر کو ضد آغوش میں لے نہ کعبہ نے دیر ہمیں ۲ … قرآن مجید پر عمل مولانا شوکت اﷲ میرٹھی! مرزائیوں کے حکیم الامتہ ۲۴؍جون۱۹۰۳ء کے الحکم میں فرماتے ہیں ’’قرآن شریف کی تلاوت کرو مگر عمل کے لئے۔ اگر قرآن شریف میں کوئی ایسی آیت پائو جو دوبھر معلوم ہو اور ایسا نظر آئے کہ اس پر عمل نہیں ہوسکتا تو یاد رکھو ایسا خیال سخت خطرناک ہے۔‘‘ حکیم صاحب کی یہ چکنی چپڑی باتیں نرا شکاری کا جال یا لاسا اور مرزائیوں کا دلاسا ہے یا اس میں کچھ صداقت بھی ہے۔ ہم تو یہی دیکھ رہے ہیں کہ مرزائیوں میں قرآن مجید پر عمل کرنا دوبھر کیا معنی محال ہورہا ہے۔ مرزا قادیانی کے گھر میں علاوہ زر نقد دفینہ اور خزینہ کے مستورات کے پاس سونے کے جڑائو زیورات موجود ہیں اور جائیدادیں علاوہ مگر حج کے نام سے موت آتی ہے اور زکوٰۃ تو کیوں ادا ہونے لگی۔ کچھ دیں گے بھی تو بھوتوں کو نہیں بلکہ قادیان کے بھوتوں کو جو کمائو پوتوں سے بڑھ کر ہیں۔ خود حکیم صاحب لکھ پتی ہیں مگر حج کے نام سے لرزہ چڑھتا ہے اور عذرلنگ یہ کہ راستے میں ڈر لگتا ہے۔ جابجا قرطینے ہیں کوئی پوچھے قرنطنیہ میں کیا خرابی ہے اور حج کی ممانعت کس گورنمنٹ نے