احتساب قادیانیت جلد نمبر 57 |
|
اور فضول کام ہے۔ اس تکلف سے یہ لفظ بے تکلف تھا۔ یعنی ’’انک صادق صادق‘‘ اب فقرہ مختصہ الہام پر جو ’’انی صادق صادق‘‘ ہے۔ حکایت کی تاویل مرزا کا کچھ اختراع ان کی مفروضہ وحی سے خارج ہے۔ دوسرا فقرہ سیشہد اﷲ لی بھی یہی ظاہر کرتا ہے۔ کہ عنقریب اﷲ میرے لئے گواہی دے گا۔ اس فقرہ میں بھی کوئی لفظ حکایت کا نہیں جو کہ مرزا قادیانی نے وحی مفروضہ میں بتایا اور سمجھا ہے بلکہ اس کے معنوں سے تو یہ ظاہر ہوتا ہے کہ خدا کہتا ہے کہ میرے لئے اللہ تعالیٰ عنقریب گواہی دے گا۔ تو گویا خدا کسی اور خدا کا اپنے لئے گواہی کا محتاج ہے۔ ورنہ اپنی فرضی وحی کے مختص لفظوں سے حکایت کی تعبیر اور دلائل بیان کرنا لازم ہوگا۔ اگر عید کی تقریب پر عربی الہامی، ہدیوں کا اداء رسوم اتحاد کے لئے شوق تھا تو پہلے عربی بول چال سیکھ لی ہوتی۔ ۲ … مرزا جی کا انوکھا میموریل مولانا شوکت اﷲ میرٹھی! نئے لے پالک پر آسمانی باپ ہمیشہ نیا ہی الہام کرتا ہے۔ لے پالک سے کہہ دیا کہ میں تو برٹش گورنمنٹ کے جبروت سے بید کی طرح لرزتا ہوں۔ مجھ میں اتنا بوتا کہاں کہ اس کے حضور چوں بھی کر سکوں۔ میں نے تجھ کو اس لئے دنیامیں بھیجا ہے کہ برٹش کو چیتے کی طرح پھیلا کرے اور روغن قازمل کر للوپتو کی چکنی چپڑی باتوں سے اس کے حضور اپنا کام نکالا کرے۔ دنیا کی مخالفت کر کے تمام مذاہب کے پیشواؤں کو گالیاں دے۔ مگر خبردار جو برٹش کی مخالفت کی۔ ورنہ یاد رکھنا وہی حال ہوگا جو سوڈانی مہدی تعایشی اور اس کے گرگوں کا ہوا کہ پیوند زمین ہوکر بھی چین نہ ملا اور ہڈیاں تک اکھاڑ کر دریائے نیل میں بہادی گئیں۔ پس لے پالک آسمانی باپ کے اس جرنیلی آرڈر کی تعمیل کرتا رہتا ہے اور سچ پوچھو تو اسی میں خیر بھی ہے کہ ہمیشہ گورنمنٹ میں خوشامد کا پنواڑا پیش کرتا رہے۔ کاتا اور لے دوڑی۔ مقصود صرف چاپلوسی ہے کہ میں گورنمنٹ کی ولایتی بوٹ کی خاک ہوں اور میرے بزرگ بھی ہمیشہ فورٹ ولیم کے لال بیگی جاروب کش رہے ہیں اور ہماری اس عقیدت ووفاداری میں کبھی غباروکدورت کے لئے راہ نہیں جو گورنمنٹ کی نسبت ہے۔‘‘ فی الحقیقت خدا کے نبی اور متنبی کا یہی کام ہے کہ ہمیشہ اہل دنیا کی خوشامد میں زمیندوز مجرے بجا لائے۔ دربار تاجپوشی کی تقریب پر مرزا قادیانی نے ہز ایکسلنسی لارڈ کرزن کے حضور ایک میموریل بھیجا ہے کہ: ’’گورنمنٹ اتوار کی تعطیل کی جگہ جمعہ کی تعطیل دیا کرے جو مسلمانوں کا مقدس دن ہے۔‘‘ واہ کیا کہنا۔ کیسا ضروری رفارم اور کتنا برجستہ الہام ہے کہ آج تک کسی پر ہوا ہی