احتساب قادیانیت جلد نمبر 57 |
|
۳ … مرزا قادیانی کے مقدمات مولانا شوکت اﷲ میرٹھی! مولوی کرم الدین صاحب نے جومرزا قادیانی اور ان کے حواریین کے مدعی بھی ہیں اور مدعا علیہ بھی۔ چیف کورٹ میں درخواست دی تھی کہ مقدمات گورداسپور سے منتقل ہوکر جہلم چلے جائیں وہ نامنظور ہوئی۔ اب مرزا قادیانی کی اس درخوست کا فیصلہ باقی ہے جو انہوں نے مولوی کرم الدین کے متدائرہ مقدمے کی نسبت دی تھی کہ وہ جہلم سے گورداسپور میں منتقل ہوجائے۔ یہ ۱۵؍مئی کو چیف کورٹ میں پیش ہوگی۔ غالباً اس کا حشر بھی ویسا ہی ہوگا جو مولوی کرم الدین صاحب کی درخواست کا ہوا۔ یعنی جب گورداسپور سے مرزا قادیانی کا مقدمہ جہلم میں منتقل نہ ہوا تو جہلم سے مولوی کرم الدین صاحب کا مقدمہ حسب درخواست مرزا قادیانی گورداسپور میں کیوں منتقل ہونے لگا اور انصاف بھی اسی کا مقتضی ہے کہ دونوں پلے برابر رہیں۔ یعنی مولوی صاحب کا استغاثہ جہلم میں رہے اور مرزا ہی کا استغاثہ گورداسپور میں تاکہ فریقین کو مقدمہ بازی کا گھٹنوں گھٹنوں مزہ آجائے۔ مرزا قادیانی کا تو اس میں ہر طرح کا فائدہ ہی فائدہ ہے کیونکہ قادیان سے جہلم تک کے سفر میں برابر بروزی نبی کی نمائش ہوتی رہے گی اور مرزائی امت بڑھتی چلی جائے گی اور لاکھوں تماشائی آئیں گے۔ مرزائی امت بڑھے گی اور اگر نمائش کا ٹکٹ لگا دیا جائے تو دوہرے مزے ہوجائیں گے۔ ہم کو تو صرف یہ تعجب ہے کہ چیف کورٹ میں مذکورہ بالا فتح پانے پر نہ تو شادیانے بجے نہ ہاتھی کے کان کے برابر شتہادت نکلی نہ پیشینگوئی کا اظہار ہوا۔ وجہ یہ ہے کہ مقدمات کی صورت دیکھ کر پہلے ہی الہام کی نانی مرچکی تھی اور آسمانی باپ انگریزی عدالت کے خوف سے کونے میں جا دبکا تھا اور لے پالک پر الہام کرنے سے ناطقہ بند ہوگیا تھا۔ لہٰذا دبی بلی نے چوہوں سے کان کٹوائے۔ لے پالک کو تو مقدمات کی خرابی بصرہ کیا معلوم ہوتی جبکہ آسمانی باپ کو معلوم نہ ہوئی۔ ورنہ وہ مولوی کرم الدین صاحب وغیرہ ہم پرنالش داغنے کی کبھی اجازت نہ دیتا جس کی بدولت مرزا قادیانی کے پائوں پر سنیچر اور سر میں چکر نصیب ہوا کہ کبھی جہلم میں اور کبھی گورداسپور میں ؎ مانع دشت نور دی کوئی تدبیر نہیں ایک چکر ہے میرے پائوں میں کوئی زنجیر نہیں معلوم نہیں آسمانی باپ کو لے پالک سے کیسا بغض ہوگیا تھا اور یہ اس نے کب کب کا بدلہ نکالا کہ لوگوں پر نالش کرنے کا الٹا سبق پڑھایا کہ اب مرزا قادیانی کو نہ پائے رفتن ہے نہ جائے ماندن۔