احتساب قادیانیت جلد نمبر 57 |
|
ہر شخص جو گھر میں ہے اس کی میں حفاظت کروں گا۔ گھر سے اگر مرزاقادیانی کا مسکو نہ محل مراد ہے تو یہ حفاظت عامہ وتامہ نہ ہوئی۔ یعنی تمام مرزائی محفوظ نہ ہوئے جو پنجاب اور ہندوستان کے دورودراز شہروں میں رہتے ہیں۔ بلکہ خود وہ حواری بھی محفوظ نہ رہے جو قصبہ قادیان میں رہتے ہیں۔ کیونکہ دار کے لفظ کا اطلاق شہروں اور قصبوں پر نہیں ہوتا۔ بیت اﷲ یا خانہ خدا سے مراد صرف حرم کعبہ یا مسجد ہوتی ہے۔ تمام شہر مکہ بیت اﷲ نہیں۔ جس طرح کسی قصبہ کی مسجد تمام قصبہ نہیں یعنی قادیان کو مسجد یا خانہ خدا نہیں کہہ سکتے۔ اس صورت میں الہام یوں ہوتا: ’’احافظ کل من فی البلد‘‘ کلام مجید میں ہے: ’’وہذا البلد الامین‘‘ اور ’’لا اقسم بہذا البلد وانت حل بہذا البلد‘‘ افسوس ہے کہ مرزاقادیانی جو قرآن کی آیتوں کو مسخ کر کے ان سے اپنا الہام تراشتے رہتے ہیں مندرجہ بالا آیتوں تک ان کی رسائی نہ ہوئی اور کیونکر ہوتی۔ خود ان کا خدا بھی خواب خرگوش میں غین ہوگیا۔ پھر احافظ باب مفاعلت سے ہو جو مشارکت فعل کو چاہتا ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ مرزاقادیانی کا خدا ان کے گھر والوں کا محافظ ہے اور ان کے گھر والے خدا کے محافظ ہیں۔ اس صورت میں یہ الہام یوں ہوتا: ’’انی احفظ کل من فی البلد‘‘ یاد رکھئے مجدد السنہ مشرقیہ کی اصلاح کی ضرورت جس طرح مرزاقادیانی کو ہے اسی طرح مرزاقادیانی کے خداکو ہے۔ بہتر ہے کہ دونوں باپ بیٹے اپنا الہام الحکم یا کسی رسالہ میں شائع کرنے سے پہلے مجدد کے حضور پیش کر دیا کریں۔ مجدد کی بعثت موجودہ زمانہ میں جب کہ تمام مرزائی جہل وسفہ کی اندھیاری میں ٹٹولتے پھرتے ہیں۔ اس لئے ہے کہ ان کو لٹریچر کے صاف اور سیدھے راستے پر لائے اور بتائے کہ نظم ونثر اور انشاء پردازی اس کو کہتے ہیں۔ ہم کو اسی بات پر غصہ آتا ہے کہ دل میں تو مرزاقادیانی اور مرزائی مجدد کی تجدید پر ایمان لے آئے ہیں اور تصدیق بالقلب بھی کر چکے ہیں۔ مگر اقرار باللسان نہیں کرتے۔ جب کہ معقول دلائل وبراہین سے ثابت ہوچکا ہے کہ شوکت اﷲ القہار بے شک مجدد السنہ مشرقیہ ہے تو اب کھلم کھلا بیعت تجدید کرنے اور سلسلہ مسترشدان میں داخل ہونے سے کون امر مانع ہے۔ دنیا میں ایک مجدد آئے اور مرزائیوں کا گروہ محض تعصب اور ضد سے اس پر ایمان نہ لائے۔ ’’واحسرتاہ وامصیبتاہ‘‘ ایڈیٹر! ۳… مسیح الہند اور المنار پچھلے سال مسیح قادیانی کی نسبت المنار مصر کے مشہور فاضل سید محمد رشید رضا نے نہایت