احتساب قادیانیت جلد نمبر 57 |
|
یہ دنیا کی ہیں کیاسیہ روئیاں سیہ روئی ہوگی غضب کی وہاں جہنم میں آخر ٹھکانا ملے صدید اور زقوم کھانا ملے عذاب آئیں جب پے بہ پے جاں گزا بروزی رسالت چکھائے مزا دبا سکتے ہیں کب یہ چیلے مرید جہنم کا وہ جوش ہل من مزید در توبہ وا ہے جو توبہ کرے اور آئندہ ان شوخیوں سے ڈرے تو میرا خدا ہے غفور رحیم بجھے اب توبہ سے نار جحیم الٰہی ہمیں بخش دے بخش دے ترے بندے بیچارے ہیں غمزدے تیرے بندے ہیں گو گنہگار ہیں تیرے فضل و رحمت کے حق دار ہیں بدی سے میری درگزر کی جیو تو رحمت سے اپنی نظر کی جیو گناہوں سے شرمندہ ہوں خوش نہیں گنہگار ہوں لیکن سرکش نہیں میں کیسا ہی ہوں پر ہوں بندہ تیرا تیرا ہی فقط رکھتا ہوں آسرا میرا تو ہی دارین میں ہو کفیل ہو تو جس کا مولیٰ فنعم الوکیل چھپی تجھ سے خالق نہیں کوئی شے تجھے خفیہ وجہر معلوم ہے تو سینوں کی باتوں کو ہے جانتا تجھے خوب ہر چیز کا ہے پتا کہیں تیرے حق میں جو مشرک صفات بلند اے عزیز ان سے ہے تیری ذات تیرے واسطے خاص حمد و سجود تیرے انبیاء پر سلام و درود ۵ … مادہ تاریخ مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے (ازالہ اوہام صفحہ ۱۸۵، خزائن ج۳ ص۱۸۹)پر ایک لطیفہ میں لکھا ہے کہ: ’’مجھے کشفی طور پر مندرجہ ذیل نام کے اعداد کی طرف توجہ دلائی گئی کہ دیکھ یہی مسیح ہے جو تیرہویں صدی کے پورا ہونے پر ظاہر ہونے والا تھا۔ پہلے سے یہی تاریخ ہم نے نام میں مقرر کررکھی تھی اور وہ یہ نام ہے ’’غلام احمد قادیانی‘‘ اس نام کے عدد پورے ۱۳۰۰ ہیں۔‘‘ افسوس ہے کہ قادیانی کو یہ کشف بھی کیسا مہمل ہوا جس سے کچھ بھی ظاہر نہ ہوا کہ غلام احمد قادیانی ہے کیا (یعنی اس سے مسیح یا مہدی یا بروزی نبی ہونا کہاں نکلا؟) بغیر ذرا سی توجہ کے یوں جملہ پورا ہوتا ہے یعنی ’’غلام قادیانی دجال ہے‘‘ مرزا اب غلام احمد تو رہا نہیں جن معنوں میں ماں باپ نے اس کا نام رکھا تھا کیونکہ جب اس نے خود ہی آقا بننا چاہا جس کا یہ غلام تھا تو آقا نے خود اسے مردود بارگاہ کردیا تو اب غلام محض رہ گیا۔ یعنی اپنے نفس کا غلام۔ اس لئے غلام قادیانی دجال