احتساب قادیانیت جلد نمبر 57 |
|
قرنطینے ہیں۔ طاعون ہے ہیضہ ہے الغرض طرح طرح کی آفات ہیں۔ اس لئے نہ مرزا قادیانی خود جائیں گے نہ اپنے حواری اور مریدوں کو حج کی اجازت دیں گے۔ بس ایسے پر آشوب وقت میں تو قادیان ہی مکہ اور مدینہ بلکہ ان سے بھی کئی حصے زیادہ شرف رکھتا ہے۔ کیونکہ وہ دارالامان ہے اور مکہ اور مدینہ اور ان کی راہ میں امن نہیں بلکہ ہر وقت جان کا خطرہ ہے۔
لیکن مرزا قادیانی کا یہ عذر لنگ ثابت کرتا ہوں کہ وہ موعود عیسیٰ نہیں بلکہ مردود دجال ہیں چنانچہ ابن عسا کرنے ابی ہریرہؓ سے روایت کی کہ ’’قال رسول اﷲa لیہبطن اﷲ عیسیٰ بن مریم حکماً عدلا واماما مقسطا فلیسلکن فج الروحاء حاجاً او معتمراً ولیقفن علی قبری لیسلمن علی ولاردن علیہ (کنزالعمال ص۳۳۵)‘‘ {رسول اﷲa نے فرمایا البتہ خدائے تعالیٰ عیسیٰ بن مریم کو اتارے گا حاکم، عادل اور امام منصف بنا کر پھر وہ حج یا عمرہ کرتے ہوئے روحاء کی راہ سے چلیں گے (روحاء ایک مقام کا نام ہے جو مدینہ سے ۳۶کوس ہے اسی راہ سے انبیاء حج کو جاتے تھے) اور میری قبر پر آکر مجھے سلام کریں گے اور میں سلام کا جواب دوں گا۔ } اب فرمائیے مرزا قادیانی مسیح موعود کیونکر ہوئے ان کے واسطے تو روحاء قادیان اور گورداسپور کی سڑک ہے وہ اس ر اہ سے بھی اس وقت بمجبوری جاتے ہیں جبکہ مقدمات میں عدالت ان کو طلب کرتی ہے۔
خدا نہ کرے مرزا قادیانی حرمین شریقین کو جائیں وہاں تو سچے مومن جاتے ہیں جو خدائے وحدہ لاشریک اور اس کے رسول خاتم النّبیین پر ایمان رکھتے ہیں۔ مرزا قادیانی احادیث کے اس جزء کو مانتے ہیں جو ان کے مطلب کے موافق ہوتا ہے باقی اجزاء نہیں مانتے۔ وہ اس آیت کے مصداق ہیں ’’نؤمن ببعض ونکفر ببعض‘‘
۴ … مرزا قادیانی کا الہامی قصیدہ
مولانا شوکت اﷲ میرٹھی!
مرزا قادیانی کا ایک فارسی قصیدہ (جس کو الہامی بتایا جاتا ہے اور جس پر مرزائیوں کو بہت بڑا دعویٰ ہے) مرزا قادیانی کو تو سب سے زیادہ ہوگا کیونکہ وہ ملہم ہیں) نظر سے گزرا ہم ذیل میں اس کے پیاز کے سے چھلکے اتار کر دکھاتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ پوست ہی پوست ہے۔ مغز ندارد لیجئے۔
جائیکہ از مسیح ونزولش سخن رود
گویم سخن اگرچہ ندار ند باورم