احتساب قادیانیت جلد نمبر 57 |
|
M تعارف مضامین … ضمیمہ شحنۂ ہند میرٹھ ۲۴؍اپریل۱۹۰۲ء کے شمارہ نمبر۱۶ کے مضامین ۱… مرزا اور طاعون ۲… ایک لطیفہ ۳… تصویر پرستی مولانا شوکت اﷲ! ۴… مسلمانوں کو وہابی کہنا مزیل حیثیت ہے مولانا شوکت اﷲ! ۵… عصائے موسیٰ کے جواب سے مرزائیوں کا عجز ایک محقق! اسی ترتیب سے پیش خدمت ہیں: ۱… مرزاا ور طاعون مرزا قادیانی کے ملحدانہ عقائد کا زہریلا اثر وباء روحانی ہے اور وباء طاعون کا اثر جسمانی۔ یہ دنیا تک محدود اور وہ عاقبت تک بھی پیچھا چھوڑنے والا نہیں۔ دیکھئے دونوں میں کتنا تفاوت ہے۔ پٹیالہ سے نامہ نگار نے لکھا کہ علاوہ ضمیمہ اور اس کے معاونوں کی قوت قدسیہ کے خداوند کریم نے عالم غیب سے کچھ ایسے سامان مہیا کر دئیے ہیں کہ مرزائی عقائد کا اثر روزبروز زندہ درگور ہورہا ہے۔ مولانا محمد علی صاحب واعظ پنجاب کے وعظ نے برکات اور ہدایات عامہ کے وہ انوار پھیلائے ہیں کہ الحاد اور شرک وبدعت چمگادڑوں کی طرح کونوں کھدروں میں چھپتے پھرتے ہیں۔ جو لوگ اب تک مذبذب اور گومگو تھے اور مکھیوں کی طرح ادھر ادھر بھنبھناتے پھرتے تھے اور مرزائی عقائد کے عنکبوت نے ان پر اچھی طرح لعاب اور جالا نہ تنا تھا۔ وہ مولانا ممدوح کے اثروعظ سے شہباز بن کر اور تزویر کا تاروپود توڑتاڑ کر مرزاقادیانی کے دام فریب سے نکل گئے اور دین اسلام کی وسعت آباد فضاء میں آگئے۔ علاوہ ان کے اور لوگ بھی جو رات دن بدعات میں مستغرق رہتے تھے ہدایت پاکر متبع سنت خیرالوریٰaہوگئے۔ الغرض مولانا محتشم الیہ کا وعظ زور شور سے جاری رہا اور لوگ جوق در جوق ’’یدخلون فی دین اﷲ افواجاً‘‘ کے مصداق ہوئے۔ حمداً وشکراً ہر وعظ کے بعد طاعون ملعون کے دفعیہ کی دعا ہوتی رہی۔ یقینا یہ مولوی صاحب ہی کی