احتساب قادیانیت جلد نمبر 57 |
|
انسانوں کی موت سے انسانوں پر عبرت پڑتی ہے۔ مگر ایک قادیان والوں کا نیچر ہے کہ وہ خوش ہوتے ہیں اور حضرت سعدی کا یہ قول پس پشت ڈال دیتے ہیں ؎ اگر بمرد عدو جاے شادمانی نیست کہ زندگانی مانیز جاودانی نیست اس سے صاف ظاہر ہے کہ مرزاقادیانی اور مرزائی اپنے مخالفوں کی موت یا حوادث سے تو خوش ہوتے ہیں۔ لیکن اگر ان کے یہاں کوئی کامیابی یا خوشی ہوتی ہے تو مرزائیوں کی نانی مر جاتی ہے۔ یہ ہے ظلی اور بروزی نبی اور یہ ہے اس کی امت۔ ایڈیٹر! ۷… خیرالقرون قرنی اس حدیث پر بحث کرتے ہوئے مرزاقادیانی کے حکیم الامت فرماتے ہیں کہ کیا وجہ ہے کہ آنحضرتa کی پیشین گوئی ’’ثم یفشو الکذب‘‘ کے موافق قرون ثلثہ کے بعد کذب پھیل گیا۔ اس کے جواب میں ہم کہتے ہیں کہ حکیم صاحب اپنے آس پاس دیکھیں۔ ادھر ادھر دیکھیں۔ اپنے دل میں دیکھیں۔ ایماناً قرآن وحدیث کی مخالفتوں کو دیکھیں۔ آنحضرتa نے فرمایا کہ میرے بعد تیس جھوٹے دجال پیدا ہوں گے اور سب یہی زعم کریں گے کہ ہم نبی ہیں۔ حالانکہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ اب مرزاقادیانی نے نبوت کا دعویٰ کر کے خود اپنے کو جھوٹا دجال بنادیا۔ بشرطیکہ وہ جیسا کہ زبان سے کہتے ہیں۔ آنحضرتa کے اقوال کو سچا جانتے ہوں۔ ظاہر ہے کہ ہرگز سچا نہیں جانتے۔ ورنہ کبھی نبوت کا دعویٰ نہ کرتے۔ اب یہ تاویل چھانٹنا کہ حدیث میں نبی کے پیدا ہونے کی نفی ہے۔ رسول کے پیدا ہونے کی نفی نہیں۔ جھوٹ کے ثابت کرنے کو دوسرا جھوٹ ہے۔ جس پر نوآموز طلبہ بھی قہقہہ اڑاسکتے ہیں۔ پس یوں جھوٹ پھیلا اور یوں ’’یفشوا الکذب‘‘ کی تصدیق ہوئی۔ مرزاقادیانی اور ان کے حواری کو معلوم ہو کہ ۲۳جھوٹے مہدی پیدا ہوئے۔ مگر ان کا یا ان کی اولاد کا یا ان کی امت کا دنیا کے پردے پر کہیں نشان بھی نہیں۔ انہوں نے بڑے بڑے محل بنائے جن کے مقابلہ میں منارۃ المسیح بچوں کا گھروندا ہے جو جمعہ کے روز مٹی اور ریتے سے بنایا کرتے ہیں اور بالآخر قضاء الٰہی زبان حال سے یہ شعر پڑھ دیتی ہے ؎ در روز جمعہ خانہ بسے ساختی بلہو بنیادکاخ خویش نہ محکم گزاشتی کذب کے وبال کو ذرا عبرت کی ترازو میں تولئے کہ مہدی سوڈانی کے عالیشان منارہ