احتساب قادیانیت جلد نمبر 57 |
|
کچھ پرزے اڑے۔ فی حلل الانبیاء کی جو کچھ چتھاڑ ہوئی۔ ’’اصح زوجتی‘‘ اور ’’انت بمنزلۃ ولدی‘‘ کی جو کچھ قلعی آج کے ضمیمے میں کھلی اس سے مرزا اور مرزائیوں کی آنکھیں کھل جائیں گی۔ مرزاقادیانی کے خدا نے انت ولدی نہیں کہا۔ کیونکہ اس کا ایک اکلوتا بیٹا (بزعم نصاری) پہلے ہی موجود تھا۔ بلکہ بمنزلۃ ولدی کہا ظاہر ہے کہ اس سے اپنے پچھلے اکلوتے بیٹے کو بڑھایا اور لے پالک بیٹے (مرزا) کو گھٹایا۔ کیونکہ نقل سے اصل ہمیشہ بڑھی رہتی ہے۔ حالانکہ مرزا اپنے کو اکلوتے بیٹے سے بڑھاتا ہے اور اس کی ہر طرح توہین کرتا ہے۔ گویا باپ بیٹوں میں تناقض ہے۔ ’’ہذا شیئی عجاب‘‘ اگر مرزا کا خدا مرزا کو ولدی کہہ دیتا تو خرابی میں کون سا شہتیر ہو جاتا۔ جب خدا کے ایک بیٹا ہو چکا ہے تو وہ دوسرے بیٹے کا ہونا کون سا خرق نیچر ہے۔ ایک بیٹا جن کر یا جنوا کر مرزا اور عیسائیوں کے خدا کا عین ہو جانا قیاس میں نہیں آتا۔ بمنزلۃ ولدی سے مرزاقادیانی نے اپنے کو عیسائیوں کے عقیدے سے بچانا چاہا ہے۔ مگر ولدی اور بمنزلۃ ولدی میں کوئی فرق نہیں۔ دونوں ایک ہی ٹکسال کی گھڑت ہیں۔ پھر دونوں فقرے کتنے بے جوڑ ہیں۔ ’’انت بمنزلۃ ولدی‘‘ کے قضیہ حملیہ میں تو حمل صفت پر اور انت توحیدی وتفریدی میں حمل مصدر کا ذات پر ہے جو بالکل بے معنی ہے۔ (ایڈیٹر) M تعارف مضامین … ضمیمہ شحنۂ ہند میرٹھ ۱۴؍مارچ۱۹۰۲ء کے شمارہ نمبر۱۱ کے مضامین ۱… الشہادۃ الجلی فی اثبات لوازم النبی محقق گجراتی! اسی ترتیب سے پیش خدمت ہیں۔ ۱… الشہادۃ الجلی فی اثبات لوازم النبی نبوت اور اس کے لوازم نبی کا لفظ نباء سے مشتق ہے۔ نباء کے معنے خبر اور آگاہی کے ہیں۔ قرآن مجید میں نباء کا اطلاق غیب کے متعلق ہوا ہے اور غیب سے کبھی تو حالات ماضیہ مراد لئے گئے ہیں اور کبھی مستقبلہ۔ اﷲتعالیٰ کا مقصود انباء غیب سے یہ ہے کہ اس کے احکام کی عدم تعمیل کے جو نتائج پہلے لوگوں پر عائد ہوئے ہیں ان کو موجودہ اور آئندہ نسلوں کے واسطے کھول کر بیان کیا جائے تاکہ یہ