احتساب قادیانیت جلد نمبر 57 |
|
قائم ہیں جو لوگ فسخ بیعت کرچکے پھر وہ رجوع ہونے والے نہیں اور جن لوگوں کے دلوں میں مرزائی ہونے کے وسوسے پیدا ہوگئے تھے اب وہ قطعاً دور ہوگئے۔ جبکہ مرزا قادیانی اور ان کے حواری قرآن پر ایمان لانے اور ایمان رکھنے کے مدعی ہیں تو ’’لااکراہ فی الدین‘‘ پر کیوں ان کا عمل نہیں اور جبکہ جبراً کوئی شخص بھی اپنا مذہب نہیں بدل سکتا اور تبدیل مذہب پر کسی کو مجبور کرنا قانوناً بھی منع بلکہ قابل تدارک ہے تو ہم حیران ہیں کہ ان مظلوم اور ناکردہ گناہ مسلمانوں پر کیوں جبر کیا جاتا ہے کہ جھک مارو اور مرزائی مذہب قبول کرو۔ ہم امید کرتے ہیں کہ اٹاوہ کے مسلمانوں کو رسول اﷲ a کی حدیث معلوم ہوگی کہ ’’لاتشرک وان قتلت اوحرقت‘‘ یعنی شرک نہ کر اگرچہ تو قتل کیا جائے یا جلایا جائے اور ظاہر ہے کہ مرزائی بننا نہ صرف ’’شرک فی الرسالۃ‘‘ بلکہ ’’شرک فی اﷲ‘‘ ہے کیونکہ مرزا قادیانی بعد ختم رسالت نبی بنے ہیں اور اپنے کو خدا کا لے پالک بنایا ہے جو بالکل اس ’’وحدہ لاشریک‘‘ کی صفت ’’لم یلد ولم یولد‘‘ کی نقیض ہے پھر کونسا سچا مسلمان ’’شرک فی الرسالت‘‘ اور ’’شرک فی التوحید‘‘ کا مرتکب ہوکر اپنے کو خلودفی النار کا مستوجب بناسکتا ہے۔ ان جبریہ کارروائیوں سے صاف ثابت ہے کہ مرزائی مذہب میں نہ کوئی کشش ہے نہ صداقت ہے کچھ لوگ محض دنیوی لالچ سے مرزائی دین قبول کرتے ہیں اور کچھ تخویف اور جبر سے۔ ’’لعنۃ اﷲ علی الظالمین والجابرین والمخوفین‘‘ امید ہے کہ معزز نامہ نگار ہم کو مفصل حالات سے مطلع کرتے رہیں گے۔ کیونکہ شحنہ ہند اس لئے مبعوث ہوا ہے اور اس کا فرض منصبی بھی ہے کہ جابروں اور ظالموں کا آسمانی عدالت میں چالان کرے اور ان کو سزا دلوائے تاکہ جناب باری کا وعدہ پورا ہو کہ ’’سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون‘‘ تعارف مضامین … ضمیمہ شحنۂ ہند میرٹھ سال ۱۹۰۳ء یکم جولائی کے شمارہ نمبر۲۵؍کے مضامین ۱… ایک طویل مراسلت نور الدین قادیانی کی اپنا استاذ مولانا الٰہی بخش سے طویل مراسلت نوٹ… یہ مراسلت شمارہ نمبر ۲۵؍سے شروع ہوکر ۲۶ کے آخر کے قریب تک چلی گئی تھی۔ ہم نے یہاں جمع کردیا ہے تاکہ تسلسل برقرار رہے۔