احتساب قادیانیت جلد نمبر 57 |
|
حدیث یا ایک آیت نہیں، اگر ہو تو پیش کرو) جو کچھ وہ اپنی تصانیف میں بتا ویل رکیکہ پیش کرتے ہیں۔ سب کا جواب پاچکے دیکھو تصانیف مولانا محمد حسین صاحب بٹالوی ومولوی بشیر احمد صاحب و پیر مہر علی شاہ صاحب ومولانا عبداﷲ صاحب وغیرہ۔ قولہ… اب ہم حیرت میں ہیں کہ آپ کو کس مذہب اور کس فرقہ میں شمار کریں تا وقتیکہ ہم کو کوئی دستاویز خاص آپ کے اصل مذہب کی بابت حاصل نہ ہو جائے تب تک ہم آپ کو اپنی رائے سے کسی فرقہ میں داخل نہیں کرسکتے۔ اقول… حضرت اوپر مجھ کو آپ اہلحدیث سے فرما چکے ہیں اب ایسا فرماتے ہیں دونوں قولوں سے کونسا قول صحیح مانا جائے جب آپ میرے مذہب میں تردد ظاہر کرتے ہیں اور نہیں سمجھتے کہ یہ عاجز کس مذہب کا ہے تو یہ جواب کس بناء پر لکھا گیا اور اوپر اپنی اسی رائے سے کیوں اہلحدیث فرمایا۔ آپ کی فہم مبارک پر آفریں ہے۔ لیجئے مذہب کی بھی دستاویز دیکھو اب کیا کریں گے۔ (سنی، محمدی اور کسی امام کی میں تقلید نہیں کرتا کتاب وسنت سے مطلب ہے اور یہ بھی میں کہتا ہوں کہ جو بات کتاب وسنت سے اشارۃً یا کنایتہ سے بھی نہ ثابت ہو وہ قابل حجت نہیں اور اول کتاب اﷲ پھر حدیث رسول اﷲa پھر اجماع وقیاس صحیح بلاتعین شخص قابل حجت ہے) باقی رہا دیگر مذاہب کا رد وہ بغیر ان کی کتابوں کے ہو نہیں سکتا کیونکہ وہ ہماری کتاب وسنت کو کب مانیں گے؟ لہٰذا انہیں کی کتابوں سے ان پر حجت پیش کی جائے گی جیسے ہم لوگ سوائے کتاب وسنت کے دوسری چیزوں کو معتبر نہیں مانتے۔ اسی بناء پر آپ سے بحث کی ٹھہری (اور دراصل اجماع وقیاس اس کتاب وسنت کی شاخ ہیں) جناب من آپ کے مرزا قادیانی نے آیات کلام مجیدا ور احادیث رسول حمیدa میں تاویل بے جاکی ہے اور وہی تاویل شدہ آیات وہ احادیث واقوال میرے سامنے پیش کئے گئے جس سے صاف ثابت ہوگیا کہ مرزا قادیانی نے روش یہودیانہ اختیار کی ہے۔ اور ان کا کوئی قول قابل تسلیم نہیں۔ آگے آپ نے یہودیوں کی صفات میں اہلحدیث کو شامل کیا ہے اس کا جواب بھی سنئے۔ قولہ… کتب سماویہ میں تحریف وتبدیل کی تھی۔ اقول… مرزا قادیانی نے ایسا ہی کیا۔ لہٰذا بقول آپ کے یہودی ہوئے۔ قولہ… نبیوں کو جھٹلایا تھا توہین وتحقیر کی تھی طرح طرح کی بدزبانیوں… کافروملحد ٹھہرایا تھا۔ اقول… مرزا قادیانی نے علماء وصلحاء امت محمدیہa کو یہودی عیسائی کافر کہا۔ عیسیٰ علیہ السلام