احتساب قادیانیت جلد نمبر 57 |
|
ہیں۔ مصطلحات نہیں سمجھ سکتے۔ قولہ… اوّل تو جہاں تک مجھ کو معلوم ہے میں کہہ سکتا ہوں کہ اس خبر میں کسی آیت قرآن شریف یا حدیث رسول اﷲa کا حوالہ نہیں دیا گیا اور اگر دیا گیا ہو تو آپ پر فرض ہے کہ اس آیت یا حدیث کو بحوالہ اس کتاب کے پیش کریں اور جب آپ پیش کریں گے توہمارا فرض ہوگا کہ ہم اس کو ثابت کرکے آپ کو دکھلا دیں۔ اقول… یہ کہئے کہ ہے نہیں اگر ہوتا تو آپ سب سے پہلے پیش کرتے اگر بھول گئے تو اب پیش کیجئے میں اپنے وعدہ پر قائم ہوں۔ اور ہم پر فرض کب ہے ہم خود ہی تو آپ سے ثبوت مانگتے ہیں اور انہی وجوہ سے مرزا قادیانی کو کاذب کہتے ہیں۔ اگر کچھ مصالحہ ہو تو مرزا قادیانی کا صدق ظاہر فرمائیے اور جب ہم نے پیش کیا تو آپ کیا ثابت کریں گے۔ ثبوت توہم بھی دے دیں گے کیا حقانیت کے یہی معنی ہیں کہ آپ سے کوئی ثبوت یا نشان مانگے آپ کہیں کہ تم لے آئو ہم ثابت کردیں گے۔ قولہ… کہ آپ کی یہ بات بخوبی ذہن نشین تھی کہ اس ضد کی بابت کسی آیت قرآن شریف یا حدیث رسول اﷲa کا حوالہ نہیں دیا گیا تھا۔ اقول۔ آپ تو یہ امر ظاہر کرچکے ہیں کہ اب کیا دوبارہ ظاہر کریں گے اور جو کہ آپ نے آگے مثالیں لکھی ہیں ان سے منشا کیا ہے۔ کتب سماویہ سابقہ کو محرفہ مان چکے۔ یہ مثالیں سب غارت ہوئیں اور میں اپنا وقت مثالوں اور قصوں میں ضائع کرنا نہیں چاہتا ہاں کتاب اﷲ اورحدیث رسول اﷲ سے ثبوت ملنا چاہئے۔ آگے آپ لکھتے ہیں کہ مرزا قادیانی کا دعویٰ کل قوم اور ہر ایک ملت والوں سے ہے۔ پس ہر ایک ملت والوں کو ان کے موافق ثبوت دیا گیا تو جناب یہ مرزا قادیانی سے فرمائیے کہ ازالہ وغیرہ میں مسلمانوں کو مخاطب کرکے اس خبر سے اپنی تصدیق کیوں چاہی ہے اور ہمارے مہربان مرزا قادیانی سے دریافت فرمائیے کہ انہوں نے یہ خبر پیش کر کے مرزا قادیانی کی تصدیق کیوں کی ہے۔ مسلمان تھا کوئی آیت یا حدیث پیش کی ہوتی۔ قولہ… لیکن آپ نے ان آیات قرآن مجید اور احادیث رسولa سے جو اہل اسلام کے مذہب کے موافق پیش کی گئی تھیں۔ کچھ فائدہ نہ اٹھایا۔اقول۔ ہمارے مہربان مرزا قادیانی نے ہمارے سامنے کچھ پیش نہیں کیا اور اگر کیا تو جواب بالصواب پایا۔ اسی خبر میں الجھے۔ پس بموجب آپ کے فرمانے کے وہ یہودی یا عیسائی ہوں گے توصاف کہہ دیا کہ ہم آیت یا حدیث کو مانیں گے چنانچہ ہمارے سوال سے ظاہر ہے اور اب ہم کہتے ہیں کہ (مرزا قادیانی کی تائید میں ایک