احتساب قادیانیت جلد نمبر 57 |
|
جواب کافی ہوچکا مگر ان کے ساکت کرنے کو ان کے اقوال نقل کرکے بھی جواب لکھتا ہوں۔ قولہ… اب جاننا چاہئے کہ حضرت مسیح موعود، مہدی مسعود جماعت احمدیہ کے کسی اور شخص نے جہاں کہیں اس واقعہ کا بیان کیا ہے وہ ان میں کتب مقدسہ کے حوالے سے لکھا ہے اور یہی کتابیں اس دعویٰ اور بیان کی تائید میں گواہ ہیں۔ آپ ان کتابوں کو دیکھ کر اپنا اطمینان اوراس دعوے کی تصدیق کرسکتے ہیں۔ اقول… آپ ان کتابوں کو تائیدی گواہ اور مقدسہ بھی کہتے ہیں محرفہ ہونے کے بھی قائل ہیں۔ دیکھو اپنے قول جو اوپر اوّل ہوئے ان دونوں قولوں میں کونسا آپ کا قول سچا ہے یا آپ کے یہاں محرفہ اقوال سے بھی تائید ہوسکتی ہے۔ بیان فرمائیے۔ قولہ… اگر ان کتابوں کا دیکھنا بوجہ اہل حدیث ہونے کے مکروہ یا حرام سمجھتے ہوں تو کسی پادری صاحب سے…الخ۔ اقول… خان صاحب آپ کوا تنا بھی فہم نہیں جب ہم ان کی کتابیں دیکھنا منع سمجھیں گے تو ان سے پوچھنا بدرجہ اول منع خیال کریں گے۔ ہمارے یہاں مذہب غیر کی کتابیں دیکھنا منع نہیں اور یہ آپ کو کہاں سے ثابت ہوا کہ میں طالب صادق نہیں اور میں نے اصل کتابیں نہیں دیکھیں اور ثبوت پر غور نہیں کیا۔ اس کا ثبوت دیجئے یا اگر الہام سے معلوم ہوا ہو تو فرمائیے بغیر تحقیق وتصدیق یہ فقرے کیسے تحریر کئے۔ قولہ۔ بلکہ اپنی طرف سے جھٹ ایک ایسا سوال جو انکار کا پہلو اپنے اندر رکھتا ہے اور کوتاہ بینوں کی نگاہ میں مخالفت ظاہر کرتا ہے۔ پیش کردیا۔ اقول… جی ہاں! آپ ایسی کوتاہ میں ہوں گے نہ اصل حال پوچھا نہ غور کیا اور قلم لے کر لکھنے کو موجود کاش کہ اپنے پیر بھائی ہی سے دریافت کرلیتے تو ٹھوکر نہ کھاتے۔ قولہ… شاید آپ کے نزدیک توریت یا انجیل کی آیت آیت نہیں اور حضرت یحییٰ اور حضرت عیسیٰ کا قول حدیث نہیں۔ اقول… ہاں نہیں محرفہ اقوال کو حدیث وآیت کون کہتا ہے؟ قولہ… اس جگہ آپ کی مراد آیت سے آیت قرآن شریف اور حدیث سے مراد حدیث رسول خداa ہے۔ مگر آپ نے قرآن شریف کا نام… تحریر نہیں کیا اور حضرتa کا اسم مبارک الخ! اقول… میں اوپر ثابت کر آیا ہوں کہ علی العموم اہل اسلام کا محاورہ ہے کہ آیت سے آیت قرآنی حدیث سے اقوال رسول رحمانیa مراد لیتے ہیں۔ ہاں جو اسلام سے بے بہرہ ا ور کودن محض