احتساب قادیانیت جلد نمبر 57 |
|
ایک دو ورقہ لمبا چوڑا لکھ دیامگر سوال سے سروکار نہیں۔ میرا ارادہ جواب الجواب کا نہ تھا۔ مگر محض اس خیال سے کہ خان صاحب کو درصورت جواب الجواب نہ ہونے کے کہنے کا موقع ملے گا کہ ہمارا جواب گروہ اہلحدیث سے نہ ہوسکا۔ اب میں اصل کتابوں سے پیشینگوئیاں نقل کرتا ہوں۔ کتاب ملا کی میں زبان رومن باب ۴؍آیت ۵ دیکھو خداوند کہ بزرگ اور ہولناک دن کے آنے سے پیشتر میں تم میں ایلیا نبی کو تمہارے پاس بھیجوں گا۔ انجیل متی رومن باب۱۱ (یوحنا کے شاگردوں سے یسوع مخاطب ہوکر فرماتے ہیں) آیت ۱۰؍کیونکہ یہ وہی ہے جس کی بابت لکھا ہے کہ دیکھو میں اپنا رسول تیرے آگے بھیجتا ہوں جو تیرے آگے تیری راہ درست کرے گا۔ آیت ۱۴؍اور الیاس جو آنے والا ہے یہی ہے چاہو تو قبول کرو۔ اردو انجیل میں بھی قریب قریب یہی لکھا ہے مگر بجائے الیاس کے الیا درج ہے۔ اور فارسی انجیل میں صراحت کے ساتھ یحییٰ کا نام لکھا ہے۔ اوّل جواب اس کا یہی ہے کہ کتب سماویہ سابقہ محرفہ ہیں۔ قابل حجت نہیں دوسرے یہ کہ اگر کتب مذکورہ بالا صحیح اور قابل حج بھی مان لی جائیں جب بھی تائید مرزا قادیانی کی نہیں کرسکتیں اور وہ ان سے سند پیش نہیں کرسکتے۔ کیونکہ پیشینگوئیاں مذکورہ بالا اور دعویٰ مرزا قادیانی میں فرق ہے۔ وہاں ایک نبی نے الہام صحیح سے دعویٰ کیا کہ میں وہی ہوں جس کی بابت توریت میں درج ہے اور دوسرے نبی نے الہام راست سے اس کی تصدیق کی کہ واقعی یہ سچا ہے۔ یہاں مرزا قادیانی کا ایسا شخص جو کہ نبی کا ہم پلہ ہو کون مصداق ہے اور مرزا قادیانی کا الہام کس دلیل سے سچا از جانب خدا مانا جائے؟ اوّل خان صاحب کو ثابت کرنا واجب ہے کہ مرزا قادیانی سچے اور ان کا الہام از جانب خدا ہے۔ دوسرے کوئی شخص ایسا گواہی میں پیش کریں جو نبی بنی اسرائیل کی شہادت کے ہم پلہ ہو اس وقت یہ خبر درست ہوسکے (حالانکہ یہ ثابت ہونا غیر ممکن ہے) لہٰذا مرزا قادیانی کا مثیل مسیح ہونا محال اور جب تک کتب سابقہ غیر محرفہ ثابت نہ ہوں۔ اس وقت تک یہ تانا بانا تار عنکبوت کی مثال ہے کہ ذرا سے جھٹکے میں الگ۔ الحمد ﷲ کہ ہم کتب سابقہ کا محرفہ ہونا جماعت قادیانی کے اقوال سے ثابت کرچکے اب اگر زائد ضرورت ہو تو کتاب وسنت وتواریخ سے بھی دکھا دیں۔ قادیانی سب پکار پکار کر کہتے ہیں کہ کتب مذکورہ محرفہ ہیں قابل سند نہیں۔ اور نیز میری پیش نظر فارسی، اردو، رومن کی کتابیں موجود ہیں۔ ہرایک میں فرق ہے پھر کیسے ان کی صحبت کا یقین ہو۔ میں انہی انجیلوں سے ان کا محرفہ ہونا ثابت کرسکتا ہوں گو کہ خان صاحب کے پرچہ کا