احتساب قادیانیت جلد نمبر 57 |
|
کہ یہ پادری صاحب کیا فرما رہے ہیں کہ ۱۲؍آیات خدا کے بیٹے پر ایمان رکھنے والے کسی ملہم نے ملا دی ہیں۔ انجیل نویس تو ورق لکھیں کیا دوسروں کا اتنا بھی حق نہیں کہ وہ چند آیات بھی لکھ سکیں فرمائیے۔ کیا ایک گندی مچھلی تمام تالاب کو گندہ نہیں کردیتی۔ لوقا کی انجیل لوقا کو اکثر روایتوں میں پیارا طبیب کہا جاتا ہے۔ مارکن مرتد نے جو مسیح کے ۱۳۸؍سال بعد ایک مصنف گزراہے لوقا کی انجیل کو مستعمل دیکھ کر اپنے مطلب کے مطابق بنالیا جیسے مرقس کی انجیل پطرس کے خیالات کے موافق تھی۔ ویسی ہی لوقا کی انجیل پولوس کے تفکرات کے لحاظ سے لکھی گئی چنانچہ پولوس تمطائوس نے دوسرے خط کے باب۲؍آیت۱۸؍میں اس انجیل کو اپنی انجیل کہا ہے اس کی تصنیف کی جگہ معلوم نہیں۔ جناب من اگر ایک شخص نے لکھی ہو تو جگہ معلوم ہوسکتی ہے۔ اب بتائیے کہ اتنے مقامات کا پتہ ملنا کچھ آسان امر ہے۔ ایڈیٹر صاحب ذراغور کیجئے شاید کسی آسمانی شہریاگائوں سے اتری ہو۔ یوحنا کی انجیل مخالفین نے اس انجیل پر خاص حملہ کیا ہے اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ مسیح کے بعد دوسری صدی کے دوسرے نصف حصہ تک اس کتاب کا نام ونشان نہ تھا۔ ناستک فرقہ یوحنا ہی کی زندگی میں پیدا ہوا جس نے انجیل کے واقعات کو فلسفہ کے ساتھ ملا دیا جسنر گئیم جس نے اس انجیل کو رد کیا۔ اس کی تاریخ تصنیف ۱۰۰۔۱۱۲ء بتاتا ہے۔ اب بتائیے کہ آپ کے پاس اس کی سچائی کے کیا دلائل ہیں یوحنا کی زندگی ہی میں اتنے تفرقہ پڑ گئے کہ بچا نہ سکے۔ انجیل بھی رد کردی گئی۔ ہمارے پاس ایسے الہام کی تردید کے اتنے ثبوت ہیں کہ اگر لکھے جائیں تو دنیا میں نہ سمائیں۔ ص۶۱،۶۲،۶۳ اور ہمارے خان صاحب اپنے پرچہ میں خود ہی فرماتے ہیں ’’انہوں نے کتب سماویہ تحریف وتبدیل کی تھی۔‘‘ دوسری جگہ فرماتے ہیں کہ ’’انہوں نے کتب سماویہ سابقہ میں تحریف کی تھی لفظوں کو بدل دیا تھا معنے کو الٹ پلٹ دیا تھا۔‘‘ لفظ (انہوں) جمع ہے جو یہود یوں، عیسائیوں سب کو شامل ہے۔ اس میں زائد لکھنا فضول ہے جماعت قادیانی کے اقوال سے کتب سماویہ سابقہ کا محرفہ اور غیر معتبر ہونا میں نے ثابت کردیا۔ اگر اور ثبوت درکار ہو اور خان صاحب کے نزدیک جماعت قادیانی اور نیز اپنے اقوال غیر معتبر ہوں تو پھر ہم انشاء اﷲ زائد ثبوت دیں گے۔ جماعت قادیانی خاص کر مرزا قادیانی کو میرے سامنے ایسی محرفہ کتابوں سے دلیل پیش کرتے کچھ باک نہ ہوا جن کی تحریف کے خود قائل ہیں اور اس کی سند کتاب وسنت سے پیش نہ کرسکے۔ فضول بات میں اپنا اور میرا وقت ضائع کیا۔ عوام کے دکھانے اور ان میں علم دار بننے کو