احتساب قادیانیت جلد نمبر 57 |
|
معاملہ ہے جیسا کہ عیسیٰ کا تھا میں نے عرض کیا کہ بالکل غلط ہے ایسا نہیں ہے اور وہ کون سا دعویٰ عیسیٰ کا تھا اور یہودیوں نے کیا نہ مانا، تو فرمایا کہ توریت میں لکھا ہے کہ ایلیا نبی آسمان سے اترے گا اس کے بعد عیسیٰ آئے گا مگر ایلیا نبی نہیں اترے اور یوحنا یعنی یحییٰ نے دعویٰ کیا بعدہ عیسیٰ نے دعویٰ کیا اور عیسیٰ نے فرمایا (کہ یوحنا وہی ایلیا ہے جس کی خبر توریت میں تھی چاہو مانو یا نہ مانو) انجیل میں لکھا ہے پس یوحنا ایلیا ہو کر آئے مگر یہود ظاہر معنوں پر عامل رہے اور تین نبیوں کا اس غلط فہمی سے انکار کیا۔ اسی طرح ہمارے نبیa نے فرمایا کہ عیسیٰ اترے گا تو یہ حقیقی معنی یہ نہیں ہے بلکہ مجاز پر ہے یعنی ہمارے امام مرزا قادیانی مثیل ہوکر آئے۔ میں نے عرض کی جناب یہ حجت یہودونصاریٰ پر پیش کیجئے جو کہ توریت وانجیل کو مانتے ہیں ہم سے کیا غرض ہم تو ان کو محرفہ کہتے ہیں ہمارے نزدیک ان میں تحریف ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ یہ پیشگوئی بھی ملاد ی گئی ہوگی یا اصل توریت میں اور کچھ یہود نے اور کچھ کردیا ہو۔ لہٰذا ہم نہیں مان سکتے۔ گفتگو کو طول ہوا یہاں تک کہ میں نے عرض کی کہ آپ اس امر کو حدیث یا آیت سے ثابت کردیں کہ توریت میں جو کچھ ہے یا یہی پیشینگوئی بایں الفاظ ٹھیک ہے۔ یاا نجیل میں اس کا جواب درست ہے تومیں بغیر جرح کے کسی دوسرے عقیدہ پر مرزا قادیانی سے بیعت کرلوں گا تو ہمارے اس قادیانی صاحب نے فرمایا کہ اگر کوئی قوت ثابت کرنے کی نہ رکھتا ہو تو میں نے کہا کہ دوسرے سے دریافت کرکے بتا دے تو فرمایا کہ اگر آپ اپنے قول سے انکار کرجائیں۔ تو میں نے عرض کیا کہ لائو قلم دوات کاغذ میں لکھ دوں چنانچہ میں نے چند سطریں انہیں کی بتائی ہوئی پیشینگوئی کے متعلق لکھ دیں مجھ کو ہرگز یہ نہ معلوم تھا کہ انجیل میں کیا ہے اور توریت میں جو کچھ اس قادیانی نے پیشینگوئی کے متعلق فرمایا لکھ دیا۔ خان صاحب اگرالفاظ پیش گوئی پر جرح کرتے ہیں تو واپس لیں یا مرزا قادیانی سے طالب جواب ہوں اور انکار اس پیشینگوئی کا اس وجہ سے کیا کہ توریت وانجیل محرفہ ہیں جس کے خان صاحب بھی قائل ہیںا ور بندہ کے پاس کافی ثبوت ہے جو آگے لکھا جائے گا۔ اور بسم اﷲ اور درود نہ لکھنے کی وجہ یہ کہ ایسے موقعوں پر جلدی میں اس کا خیال نہیںرہتا عموماً خطوط دیکھے جائیں فیصدی ایک میں شاید اس کا التزام ہو دوسرے اس کا لکھنا فرض وواجب نہیں۔ تارک اس کا گنہگار نہ ہوگا اور اگر ہو تو ہمارے مقابل ثابت کریں۔ تیسرے یہ کہ میں نے زبان سے کہا تھا لکھنا ضروری نہیں۔ زبان سے کہنا کافی اس کا کیا ثبوت کہ میں نے زبان سے نہیں کہا تھا۔ اور وہ سطریں یہ ہیں (جو موجودہ حالت اسلام کی ہے