احتساب قادیانیت جلد نمبر 57 |
|
کبھی نہ یہودیوں کی ہوئی نہ عیسائیوں کی نہ اور کسی امت کے ہاں کسی آئندہ زمانہ میں یہی شکل ہو جائے توبحث سے خارج ہے اگر کسی کو دعویٰ ہو تو آیت یا حدیث صحیح قابل اعتبار سے ثابت کیا جائے۔ فقط راقم رفعت اﷲ خان عفی عنہ بقلم خود) اتنا لکھ کر میں نے اس قادیانی کو دیا تو اس قادیانی نے فرمایا کہ تونے پیشینگوئی جس کے متعلق گفتگو تھی نہ لکھی۔ ممکن ہے کہ تو انکار کرجائے اور کہے یہ نہیں یہ گفتگو تھی تو میں نے کہا ہاں میری گفتگو اسی سے ہے۔ مجھے اور معاملہ سے بحث نہیں مگر مجھ کو وہ پیشینگوئی معلوم نہیں جو لکھوں تو کہا میں بتاتا ہوں لکھو۔ چنانچہ انہوں نے فرمایا اور میں نے لکھا بایں الفاظ (اور یہاں اس امر پر بحث ہے کہ توریت میں لکھا ہے (کہ ایلیا نبی آسمان سے اترے گا بعد کو عیسیٰ آئے گا، جواب عیسیٰ، یوحنا یعنی یحییٰ مماثلت کی شکل میں آچکے، لہٰذا میں سچا ہوں )اگر آیت یا حدیث سے یہ بات ثابت ہوگئی تو بلا کسی دوسرے عقیدہ پر جرح کرنے کے میں بیعت مرزا قادیانی کی کرلوں گا فقط راقم رفعت اﷲ (خان عفی عنہ) کاش کہ ہمارے خان صاحب موصوف مرزا قادیانی سے دریافت کرکے لکھتے تو ان کو غلطی نہ ہوتی۔ یہی واقعہ بے کم وکاست ہے جو میں نے نقل کیا۔ یہ قادیانی قسم کھا کر کہہ دیں کہ ایسا نہیں ہوا تھا۔ ہاں پھر اس قادیانی نے دوسرے روز مجھ سے فرمایا کہ آیت وحدیث میں اس کا ذکر نہیں ہے۔ اب کوئی اور مسئلہ دریافت کرو میں نے کہا کہ میرے سوال کے جواب میں لکھ دو کہ اس کا ثبوت آیت وحدیث سے نہیں ہے تو پھر اور سوال کروں۔ بہت عرصہ کے بعد اس کا جواب لاکر دیا جس کا جواب الجواب یہ ہے نہ میری خان صاحب سے گفتگو تھی نہ ان کو سمجھانا مقصود تھا ورنہ ان کے فہم عالی کے موافق لکھتا جس کو سمجھانا مقصود تھا۔ وہ میرا مطلب سمجھ گیا تھا وہ قادیانی قسم کھاکر کہہ دیں کہ میں نہیں سمجھا تھا وہ کہہ دیں کہ تیری مراد آیت سے آیت قرآنی یا حدیث سے حدیث نبویa نہ تھی یہ الفاظ تو ایسے معروف ہیں کہ ہر ایک بچہ اہل اسلام کا سمجھ لیتا ہے۔ تعجب ہے کہ خان صاحب نہ سمجھے۔ اول ہم جماعت قادیانیہ ہی کی کتابوں سے انجیل وتوریت کا محرفہ ہونا ثابت کرتے ہیں۔ پھر خان صاحب کے دلائل کی طرف توجہ کریں گے۔ سراج الدین جس کا دوسرا نام برہان الحق ہے از تصنیف شیخ عبدالحق صاحب طالب علم بی اے مرزائی اس میں لکھا ہے نمبر ۱۶؍از سوالات ۲۸؍چاروں اناجیل میں کیوں اختلاف ہے اگر خدا کے کلام میں فرق ہو تو انسان کا کلام کیوں ناحق ٹھہرتا ہے۔ عماد الدین اپنی تفسیر میں لکھتا ہے کہ تالاب کے قصہ والا باب الحاق ہے۔ کیا