احتساب قادیانیت جلد نمبر 57 |
|
کے پاس کوئی دلیل عقلی یا نقلی ایسی نہیں ہے کہ جس سے وہ حضرت عیسیٰ ؑ کی حیات دنیوی ثابت کرکے ان کو آسمان سے اتار سکیں بجز اس کے کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ کے مامور من اﷲ ہونے کا اقرارکرکے سلسلہ بیعت میں داخل ہوجائیں اور کوئی ملجأو ماویٰ نہیں ہے۔ منت آنچہ حق بود گفتم پیام تو دانی وگربعد ازیں والسلام فقط راقم محمد شرافت اﷲ خان مورخہ ۹؍نومبر ۱۹۰۲ء عیسوی جواب الجواب از جانب ابو السخاء محمد رفعت اﷲ خان ضلع شاہجہان پور محلہ انٹہ نمبر مکان۲۴ بسم اﷲ الرحمن الرحیم، نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم! ایک سوال میں نے باتوں باتوں میں اپنے معزز مہربان مرزا قادیانی سے کیا تھا۔ اس کا جواب میرے مقابل شرافت اﷲ خان نے بغیر غور فرمائے ہوئے اور حالت واقعی کو چھپا کر لکھا اور فرقہ اہلحدیث کو جو صراط مستقیم پر ہے سخت الفاظی سے یاد فرمایا جو کچھ انہوں نے سخت الفاظی سے کام لیا ہے میں اس کا جواب لکھ کر اپنے قلم کو خراب کرنا نہیں چاہتا۔ ہاں چند دلائل فاسد جو ان کے طبع زاد ہیں ان کا جواب لکھتا ہوں۔ مجھ کو فرقہ احمدیہ سے سخت تعجب ہے کہ ان کے قلم سے وہ الفاظ نکلتے ہیں جو ان کے دعوے کے خلاف ہیں۔ ان کا اور نیز مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے کہ ہم کو اور ہمارے مطیعوں کو سخت الفاظی نہ کرنا چاہئے اور اکثر قادیانیوں سے بھی یہ سنا گیا مگر وہ اس پر عامل نہیں جیسا کہ پرچہ شرافت اﷲ خان صاحب سے ظاہر ہ ہے اوّل پوری حقیقت لکھ دینا واجب ہے کہ میں نے سوال کیوں پیش کیا تو سنئے جیسا کہ میں اوپر ظاہر کر آیا ہوں کہ وہ میرے مہربان ہیں میں اکثر ان کی دکان پر جاکر بیٹھتا ہوں۔ اور وہ بہت خلق اور مہربانی سے (باوجود عقیدہ میں خلاف ہونے کے) پیش آتے ہیں بارہا ان سے عقیدہ میں گفتگو بھی ہوئی (اس کا ظاہر کرنا فضول ہے کہ وہ ہارے یامیں؟ پبلک جانبین کی تحریروں سے خود فیصلہ کرلے کہ کس کو زک ہوئی) ایک روز گفتگو ہوتے ہوتے قادیانی صاحب فرمانے لگے کہ ہمارے بھائی مسلمان بالکل یہودیوں کی چال پر چلتے ہیں۔ وہی عادات اختیار کررہے ہیں جو یہودیوں کے تھے اور ہمارے امام برحق کا وہی