احتساب قادیانیت جلد نمبر 57 |
|
کا موقع مل جائے کہ ہم نے علیہ السلام کا اختصار کرکے حرف (ع) تو لکھ دیا تھا اور اپنے دل میں بھی کہہ لیا تھا گو پورا نہیں لکھا تو کیا ہوا۔ آیت حدیث سے یہ بھی درست ہے (س) لہٰذا میں سچا ہوں (ج) اب یہاں پر لہٰذا کے بعد جو لفظ کا واقع ہوا ہے وہ بھی عجب شان کے ساتھ استعمال کیا گیا ہے نہیں معلوم کہ اس میں سے مراد آپ کی ذات شریف ہے یا آپ کے ذہن میں کوئی اور ہے جس کی صراحت آپ اپنے کسی تقاضائے باطنی کی وجہ سے نہ کر سکے ابھی بے جوڑ فقرہ گھڑنا اور ایسی بے تکے لفظ میں لکھنا بس آپ ہی کا کام اور آپ ہی کا حصہ ہے۔ (س) اگر آیت یا حدیث سے یہ بات ثابت ہوگئی (ج) نہیں معلوم کہ آپ یہاں پر کس بات کا ثبوت مانگتے ہیں۔ آیا ان لفظوں کا ثبوت مانگتے ہیں جو آپ نے لکھے ہیں یا اس خبر کا ثبوت مانگتے ہیں جو توریت وانجیل سے ثابت ہوتے ہیں اور وہ آیت وحدیث جس سے آپ ثبوت چاہتے ہیں آپ کے ذہن شریف میں کونسی ہے کیونکہ توریت کی آیت اور حضرت عیسیٰ ؑ کاقول وحدیث ہونا توخود آپ کی تحریر ہی سے ثابت ہے اور اگر آپ کو سوا اس کے اور کسی آیت یا حدیث کی تلاش تھی تو صراحت کے ساتھ اسکا ذکر کرنا چاہئے تھا یا اشارتاً کنایتاً بتانا چاہئے تھا یا یوں ہی جیسے کورے کاغذ آپ پڑھتے ہو ویسے ہی دوسروں سے پڑھوانا چاہتے ہو اور اگر آپ کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے تراشیدہ الفاظ قرآن مجید یا احادیث رسول اﷲa میں نکل آئیں تو آپ کی اس مراد کو تو بجز خدائے غالب کے کہ وہ ہر شے پر قادر ہے اور کوئی پورا نہیں کرسکتا اور اگر آپ یہ چاہتے ہیں کہ یہ خبر آیات قرآن شریف یا احادیث رسول اﷲa سے انہیں الفاظ مندرجہ توریت وانجیل کے ساتھ ثابت ہوجائے تواس کے واسطے پہلے آپ کو یہ ثابت کرناچاہئے کہ کتب سابقہ سماویہ کی خبریں اور پیشینگوئیاں اور کل اقوال اور کل مسائل ہوبہو قرآن شریف یا احادیث رسول اﷲa میں پائی جاتی ہوں اور جب آپ یہ ثابت کردیں گے تو آپ کا سوال خود بخود حل ہوجائے گا اورکسی سے کچھ پوچھنے اور ثبوت مانگنے کی ضرورت نہ رہے گی۔ (س) تو بلا کسی عقیدہ پر جرح کرنے کے میں بیعت مرزا قادیانی کی کرلوں گا (ج) آپ نے اپنی خوبی فہم سے اس ایک عقیدہ پر جرح کرکے جو نتائج پیدا کئے ہیں۔ ان میں سے کچھ تھوڑے بطور مشتے نمونہ ازخروارے اس مختصر میں لکھ کر آپ کے سامنے پیش کردئیے گئے ہیں اور اگر آپ کا جی چاہتا ہے تو آئندہ کسی اور دوسرے عقیدہ پر جر ح کرکے ارمان نکال لیجئے تاکہ کوئی آرزو دل کی دل میں باقی نہ رہ جائے اور اس کو خوب یاد رکھئے کہ آپ یا آپ کے ہم عقیدہ مولویوں