احتساب قادیانیت جلد نمبر 57 |
|
ہیں یا کسی کا قول ثابت کررہے ہیں یا کیا لکھ رہے ہیں۔ یہاں پر وہی مثل صادق آرہی ہے کہ من بسے سپنے ڈسے ایک حضرت عیسیٰ ؑ کے آسمان سے اترنے کے آپ کیا منتظر ہیں کہ بے اختیار ہرشخص کی نسبت آسمان سے اترنے کا لفظ خودبخود زبان پر جاری ہوجاتا ہے کہ خواہی نخواہی کوئی ہو اور کچھ ہی ہو۔ لیکن آپ اس کو آسمان ہی سے اتارنا چاہتے ہیں۔ بھلے آدمی یہ تو دیکھا ہوتا کہ یہ خبر کتابوں میں کن الفاظ کے ساتھ لکھی ہوئی ہے اور اس کا مطلب کیا ہے یا یوں ہی بے سوچے سمجھے زمین آسمان کے قلابے ملانے لگے۔ (س) جواب عیسیٰ یوحنا یعنی یحییٰ مماثلت کی شکل میں آچکے (ج) اس فقرہ کی بھی وہی حالت ہے اول تو یہی نہیں ظاہر ہوتاکہ اس جواب کی صدا آپ کے کان میں کہاں سے آگئی اور ان الفاظ کا سبق آپ کو کس نے پڑھا دیا تو اس ہاتف غیبی کا نام لینا چاہئے تھا۔ جس نے یہ اعجاز بھری آواز آپ کو سنائی اور یا اس استاد شفیق کا ذکر کرنا چاہئے تھا جس نے یہ سبق دل کشا آپ کو پڑھایا اگر آپ کسی لکھے پڑھے سے اپنی تحریر میں اصلاح لے لیتے یا خود سوچ سمجھ کر خدا کا نام لے کر یا کسی کتاب کو اپنے سامنے رکھ کر اس سے نقل کرلیتے تو اس تحریف کے الزام کے نیچے نہ آتے جو یہودیوں اور عیسائیوں سے خصوصیت رکھتا ہے۔ اب بجز اس کے کہ آپ یہودیوں اور عیسائیوں کی مماثلت کا اقرار کریں اورکچھ چارہ نہیں ہے اور دوسرے یہ کہ جو آپ نے حضرت عیسیٰ اور حضرت یحییٰ علیہم السلام کے نام پر اس شکل کا (ع) حرف عین بنا دیا ہے اس کا مطلب سمجھ میں نہیں آتا کیونکہ بسم اﷲ الرحمن الرحیم اور حمد خدا اور صلوٰۃ رسول اﷲa کو تو پہلے ہی آپ ترک کرچکے تھے اب حرف سلام کا لفظ رہ گیا تھا جو انبیاء علیہم السلام کے نام کے بعد اہل اسلام لکھا کرتے ہیں۔ اس سے بھی منکر ہوگئے اور تمحید خداوند کریم اور تعظیم وتکریم انبیاء علیہم السلام سے پورا پورا انحراف ثابت کردیا کیوں نہ ہو یہی غیرت اسلام اور تقاضائے ایمان ہے اور یاا س حرف (ع) کے لکھ دینے سے آپ کا منشاء یہ ہے کہ اس اشارہ کو سمجھ کر جس کا جی چاہے اور علو درجات مبعوث ورسالت کا قائل ہو وہ سلام بھیج دیوے اور جس کا جی چاہے وہ اس کو علامت عیب سمجھ کر نہ بھیجے۔ اگر آپ کا مطلب یہ نہ ہوتا اور حضرت عیسیٰ اور حضرت یحییٰ علیہم السلام کی کچھ عزت اور وقعت آپ کی نظروں میں ہوتی تو ضرور تھا کہ ان کو لفظ سلام سے محروم نہ رکھتے اور یا اس حرف (ع) کے لکھنے سے آپ کا مطلب یہ ہے کہ دراصل تو آپ کو لفظ سلام سے نفرت یا انکار ہے لیکن اس خوف سے کہ شاید کوئی مسلمان اہل ایمان اعتراض کر بیٹھے یہ اشارہ کردیا تاکہ اس وقت یہ کہنے