احتساب قادیانیت جلد نمبر 57 |
|
مطلب ہوا یا کچھ اور کہ یہ خراب حالت اسلام کی جو اس وقت موجود ہے اگر آئندہ کسی زمانے میں یہودیوں اورعیسائیوں کی افضل اور عمدہ حالت کے مانند ہوجائے تو وہ بحث سے خارج ہے یعنی وہ ذکر سننے کے قابل نہیں ہے۔ افسوس صد افسوس آپ کی اس عقل رسا اور خوبی فہم وذکاکی کہاں تک تعریف کی جائے اور کہاں سے الفاظ قابل مدح لائے جائیں بقول شخصے ؎ اے زفہم وعقل ودانش دور تر آنچہ میگوئی بگوئی طرفہ تر (س) اگر کسی کو دعویٰ ہو تو آیت یا حدیث صحیح قابل اعتبار سے ثابت کیا جائے (ج) یہ بھی عجیب فقرہ ہے نہیں معلوم ہوا کہ آپ کے ذہن شریف میں آیت کس کا نام ہے اور حدیث آپ کس کو کہتے ہیں آیا زبور کی آیت مراد ہے یا توریت کی یا انجیل کی یا فرقان حمید کی یا اور کوئی نشان اور حدیث سے حدیث سردار اولین وآخرین خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیa مقصود ہے یا اور کسی انبیاء اولیاء بزرگ مشائخ کے اقوال اول تو یہی نہیں ثابت ہوتا ہے کہ جس دعوے کا ثبوت آپ مانگتے ہیں وہ کونسا دعویٰ ہے آیا وہ یہی دعویٰ ہے کہ جو آپ نے اپنی اس تحریر میں اسلام کی موجودہ حالت کی نسبت ظاہر کیا ہے۔ یا کچھ اور ہے اگر یہی دعویٰ ہے تو اس کو آپ خود ثابت کرچکے ہیں۔ دوسروں سے اس کے ثبوت مانگنے کی کیا ضرورت ہے اور آپ کو اپنے دعوے کی تائید کرانا منظور ہے تو کسی اپنے ہم عقیدہ وغیر مقلد وغیرہ کو تلاش کرلیا ہوتا تاکہ یک نشد دو شد کا مصداق ہوجاتا اور اگر کوئی اور دعویٰ ہے کہ جو ابھی آپ کی زبان اور قلم سے نہیں نکلا ہے اور روز ازل سے اب تک آپ کے دماغ میں بند ہے توکوئی اس کا ثبوت بھی کیا دے سکتا ہے اور آپ کے فرضی خیالوں اور ذہنی سوالوں کا جواب ہی کہاں سے لاسکتا ہے۔ اور دوسرے یہ کہ آپ کے الفاظ حدیث صحیح قابل اعتبار سے یہ واضح ہوتا ہے کہ شاید آپ کے نزدیک بہت سی حدیثیں ایسی بھی ہیں کہ جو باوجود صحیح ہونے کے بھی اعتبار کے قابل نہیں ہیں۔ ورنہ حدیث صحیح کے بعد لفظ قابل اعتبار کا استعمال کرنا کیا معنی رکھتا ہے اگر آپ کا عقیدہ یہی ہے جیسا کہ ان الفاظ سے ثابت ہوتا ہے۔ تو بجز اس کے کہ ہم آپ کو خدائے رحیم وکریم کی حفظ وامان میں سپرد کردیں اور کچھ نہیں کہہ سکتے (س) اور یہاں اس امر پر بحث ہے کہ توریت میں لکھا ہے (کہ ایلیا نبی آسمان سے اترے گا بعد کو عیسیٰ آئے گا) (جواب) یہاں پر یہ نہیں معلوم ہے کہ آیا اس عبارت کا توریت میں لکھا ہوا ہونا آپ خود ہی بیان کررہے ہیں یا کسی کتاب کی نقل کررہے