احتساب قادیانیت جلد نمبر 57 |
|
یہودیوں پر گزر چکا ہے۔ اب وہی وقت قریب ہے جس کا وعدہ ہوچکا ہے پس نصیحت حاصل کرو اقوال انبیاء برحق سے اور عبرت پکڑو امت سابقہ سے تاکہ مومنوں میں شمارکئے جائو۔ اب میں آپ کے سوال کو لفظ بلفظ نقل کرکے اس کا جواب لکھتا ہوں۔ حرف (س) سے اپنے سوال کی عبارت اور حرف (ج) سے اس کا جواب سمجھ لیجئے گا اور دھیان لگا کر ہمہ تن چشم ہوکر خوب غور سے پڑھے گا۔ آپ فرماتے ہیں کہ (س) جو موجودہ حالت اسلام کی ہے۔ کبھی نہ یہودیوں کی ہوئی نہ عیسائیوں کی نہ اور کسی امت کی (ج) اول تو یہ فرمائیے کہ کس تحریر کی آغاز میں بسم اﷲ الرحمن الرحیم نہ لکھنا اور حمدونعت کو ترک کرکے مطلب شروع کردینا یہ طریقہ یہودیوں کا ہے اور عیسائیوں کا یا اہل اسلام کا اس تحریر کی رو سے بسم اﷲ الرحمن الرحیم کے فضائل کا انکار آپ نے کیا یا نہیں؟ اﷲ تعالیٰ کی تعریف کرنی اور رسول اﷲa پر درود بھیجنے کو واجب الترک سمجھایا نہیں اس کا جواب آپ کے ذمہ ہے اور دوسرے جو معنے اس فقرہ کے مناسب الفاظ سے مترشح ہوتے ہیں وہ یہی ہیں یا کچھ اور کہ جو حالت خراب سے خراب اس وقت اسلام کی موجود ہے یہ حالت نہ کبھی یہودیوں کی ہوئی نہ عیسائیوں کی نہ اور کسی امت کی جس کا ما حصل یہ ہوا کہ موجودہ حالت اسلام کی یہودیوں اور عیسائیوں سے بھی بری ہے تو اب کہئے کہ جب آپ خود ہی اسلام کو اس ذلت اور خرابی کو پہنچا رہے ہیں۔ اوراس کو یہودیت اور عیسائیت سے ذلیل اور بدتر ٹھہرا رہے ہیں تو پھر اب اور شواہد کی ضرورت ہی کیا ہے۔ یہ عجب معاملہ ہے کہ خود ہی تو اسلام کی حالت کو یہودیوں اور عیسائیوں کی حالت سے بدتر ٹھہرائو اور خود ہی دوسروں سے اس کا ثبوت مانگو۔ ہم نہیں سمجھ سکتے ہیں کہ آپ نے یہ طرز تحریر کہاں سے سیکھی ہے کہ جس کے ہر لفظ سے یہودیت اور عیسائیت کا جوش ہے اور اگر یہ معنے جو کہ میں نے بیان کئے ہیں۔ آپ کے نزدیک اس مفہوم سے جس کو آپ نے اپنے ذہن میں قائم کررکھا ہے۔ مغائرت ظاہر کرتے ہوں تو آپ کو چاہئے کہ وہ معنے جو کہ ان الفاظ سے پیدا ہوتے ہیں ظاہر کردیجئے۔ اور اگر آپ ظاہر نہ کرسکتے ہوں یا لکھ نہ سکتے ہوں توا پنے استاد مولوی محمد صاحب یا کسی اور مولوی صاحب یا طالب علم صاحب سے لکھوا کر ان کے دستخط کرالیں تاکہ آئندہ وہ مولوی صاحب یا طالب علم صاحب اپنی قابلیت کی داد پانے سے محروم نہ رہیں۔ (س) ہاں کسی آئندہ زمانہ میں ہوجاتے توبحث سے خارج ہے۔ (ج) اب ان دونوں فقروں کے ملانے سے یہی